جگرؔ وارثی کے اشعار
داور حشر یہ ہے حشر میں ارماں مجھ کو
بدلے جنت کے ملے کوچۂ جاناں مجھ کو
جس طرف کوچۂ قاتل میں گزر ہوتا ہے
نظر آتے ہیں ادھر موت کے ساماں مجھ کو
رات کو بے خبر رہے آپ تو خواب ناز میں
نیند نہ آئی صبح تک ہم کو شب دراز میں
دیکھ کر آسماں کو ہم تو زمیں میں گڑ گئے
جب نہ کہیں جگہ ملی آپ کی بزم ناز میں
اور کسی کا نور ہے اس مہ دل نواز میں
عکس کو دیکھ بے خبر آئینۂ مجاز میں
فاتحہ پڑھتے رہے ہنستے رہے روتے رہے
قبر پر آ کر انہوں نے قول پورا کر دیا
ساتھ میرا تیرا اے آئینہ رہتا تھا
وہ بھی دن یاد ہیں جب سامنے تو رہتا تھا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere