Sufinama

دوہے

دوہا ہندی، اردو شاعری کی ممتاز اور مقبول صنف سخن ہے جو زمانہ قدیم سے تا حال اعتبار رکھتی ہے۔ دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ اس کا آغاز ساتویں صدی اور آٹھویں صدی کا زمانہ بتایا جاتا ہے۔ دوہرا اور دوپد اس کے دوسرے نام ہیں۔

1834 -1917

چودھویں صدی ہجری کے ممتاز صوفی شاعر اور خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشیں

1253 -1325

خواجہ نظام الدین اولیا کے چہیتے مرید اور فارسی و اردو کے پسندیدہ صوفی شاعر، ماہر موسیقی، انہیں طوطی ہند بھی کہا جاتا ہے۔

-1927

روحانی شاعر اور "وارث بیکنٹھ پٹھاون" کے مصنف

1874 -1952

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور اپنی صوفیانہ شاعری کے لئے مشہور

1660 -1729

خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ کے بانی

1680 -1757

پنجاب کے معروف صوفی شاعر جن کے اشعار سے آج بھی ایک خاص رنگ پیدا ہوتا ہے اور روح کو تسکین میسر ہوتی ہے۔

1568 -1593

دوہے کہنے کے لئے مشہور

حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری

-1679

حضرت سیدنا امیر ابوالعُلا کے ممتاز مرید و خلیفہ

1553 -1626

عبدالرحیم خان خاناں ایک اچھے شاعر اور قصہ گو تھے، وہ علم نجوم کے علاوہ اردو اور سنسکرت زبان کے ایک فصیح و بلیغ شاعر تھے، پنجاب کے نو شہر ضلع میں ایک دیہات کو ان کے نام خان خانخانہ سے موسوم کیا گیا ہے۔

1548 -1628

ایک ایسے مسلمان شاعر جو بھگوان کرشن کے پیروکار تھے، آپ نے شنکر، گنگا اور ہولی کے تہوار پر بھی نظمیں لکھی ہیں۔

1725

سنت چرن داس جی کی شاگردہ ہیں، ان کی تخلیقات کا مجموعہ سہج پرکاش کے نام سے شائع ہوا ہے۔

1262 -1380

برصغیر کے مشہور صوفی اور مکتوبات صدی و دو صدی کے مصنف

1856 -1927

ہندوستان کے معروف خیرآبادی شاعر اور جاں نثار اختر کے والد

1477 -1542

"پدماوت" کے مصنف

حاجی وارث علی شاہ کے مرید و خادم خاص

1440 -1518

پندرہویں صدی کے ایک صوفی شاعر اور سنت جنہیں بھگت کبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کبیر اپنے دوہے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، انہیں بھگتی تحریک کا سب سے بڑا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔