Sufinama

دوہے

تن نرمل کر بوجھئے من کی ادھیکے سیکھ

وَہُوَ مَعَکُم کے بھید سوں پھر پھر آپے دیکھ

شاہ صاحب قلب کی صفائی کے لیے بدن کی پاکیزگی اور طہارت کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن پا ک کے اس مقولے پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

شاہ صاحب قلب کی صفائی کے لیے بدن کی پاکیزگی اور طہارت کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن پا ک کے اس مقولے پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

برکت اللہ پیمی

من جوگی تن کہ مڑھی سیت گودری دھیان

نیناں جل برہ دھوئیں بِچھّا درسن جان

دل ایک جوگی کی طرح ہے جس کی رہائش گاہ جسم ہے۔ جوگی نے عبادت کی گدڑی اوڑھ لی ہے اور ہجر کے آنسوؤں سے غسل کر رہا ہے۔ عبادت کرنے والا جوگی بھیک میں جلوۂ محبوب مانگ رہا ہے۔

دل ایک جوگی کی طرح ہے جس کی رہائش گاہ جسم ہے۔ جوگی نے عبادت کی گدڑی اوڑھ لی ہے اور ہجر کے آنسوؤں سے غسل کر رہا ہے۔ عبادت کرنے والا جوگی بھیک میں جلوۂ محبوب مانگ رہا ہے۔

برکت اللہ پیمی

بیج برچھ نہیں دوے ہیں روئی چیر نہیں دوے

ددھ ترنگ نہیں دوے ہیں بوجھو گیانی لوے

اس شعر کا تعلق بھی وحدت الوجود سے ہے شاہ صاحب کہتے ہیں کہ بیچ اور درخت، روئی اور کپڑا، دودھ اور دہی بہ ظاہر مختلف چیزیں ہیں۔ مگر حقیقتاً ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور تو مومن کے دل میں ہوتا ہے۔ مگر یہ بات عالم و کامل ہی جانتے ہیں۔

اس شعر کا تعلق بھی وحدت الوجود سے ہے شاہ صاحب کہتے ہیں کہ بیچ اور درخت، روئی اور کپڑا، دودھ اور دہی بہ ظاہر مختلف چیزیں ہیں۔ مگر حقیقتاً ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور تو مومن کے دل میں ہوتا ہے۔ مگر یہ بات عالم و کامل ہی جانتے ہیں۔

برکت اللہ پیمی

من بھٹکو چہوں اور تیں آیو سرن تہار

کرونا کر کے ناؤں کی کریے لاج مرار

میرا دل چاروں طرف بھٹکنے کے بعد تیرے دامان رحمت میں پناہ لینا چااہتا ہے ۔ تو رحماں و رحیم ہے اپنی ان صفات کے طفیل میری لاج رکھ لے۔ گو شاہ صاحب نے اس شعر کے ذریعہ انسان کو دعا مانگنے کا ایک خوبصورت طریقہ عطا کیا ہے کہ بندہ اپنی طلب کے مطابق صفت الٰہی کا واسطہ دے دے انشاء اللہ دعا قبول ہوجائے گی۔ مثلاً رحمت چاہیے تو صفت رحمان ،۔ رزق چاہیے تو صفت رزاق اور علم و حکمت چاہیے تو صفت علام الغیوم کے واسطے دعا مانگے۔

میرا دل چاروں طرف بھٹکنے کے بعد تیرے دامان رحمت میں پناہ لینا چااہتا ہے ۔ تو رحماں و رحیم ہے اپنی ان صفات کے طفیل میری لاج رکھ لے۔ گو شاہ صاحب نے اس شعر کے ذریعہ انسان کو دعا مانگنے کا ایک خوبصورت طریقہ عطا کیا ہے کہ بندہ اپنی طلب کے مطابق صفت الٰہی کا واسطہ دے دے انشاء اللہ دعا قبول ہوجائے گی۔ مثلاً رحمت چاہیے تو صفت رحمان ،۔ رزق چاہیے تو صفت رزاق اور علم و حکمت چاہیے تو صفت علام الغیوم کے واسطے دعا مانگے۔

برکت اللہ پیمی

تو میں میں تو ایک ہیں اور نہ دوجا کوے

میں تو کہنا جب چھٹے وہی وہی سب ہوے

جب تک ’من و تو‘ کا فرق رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تک رسائی مشکل ہے۔ جب اس فرق کو مٹا دیا جائے گا تبھی اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔

جب تک ’من و تو‘ کا فرق رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تک رسائی مشکل ہے۔ جب اس فرق کو مٹا دیا جائے گا تبھی اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔

برکت اللہ پیمی

پیمیؔ تن کے نگر میں جو من پہرا دیے

سووے سدا انند سوں چور نہ مایا ہوے

نفس امارہ پر قابو رکھنا ضروری ہے کیوں کہ یہ انسان کو بربادی کے راستے پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ جسم کو دل کا حکم ماننا چاہیے۔ اگر انسان ضبط نفس سے کام لے تو وہ ہمیشہ مطمئن رہے گا اور شیطان اسے گناہ میں مبتلا نہیں کر سکے گا۔

نفس امارہ پر قابو رکھنا ضروری ہے کیوں کہ یہ انسان کو بربادی کے راستے پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ جسم کو دل کا حکم ماننا چاہیے۔ اگر انسان ضبط نفس سے کام لے تو وہ ہمیشہ مطمئن رہے گا اور شیطان اسے گناہ میں مبتلا نہیں کر سکے گا۔

برکت اللہ پیمی

مَن یَّضللہ جو ہر بھیو پاپ کی موٹ

فلا ہادی لہ ہوے نہیں کرو جتن کن کوٹ

جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی لاکھ کوشش کے باوجود کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا صرف اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔

جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی لاکھ کوشش کے باوجود کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا صرف اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔

برکت اللہ پیمی

نئی ریتی یا پیت کی پہلیں سب سکھ دیہہ

پاچھیں دکھ کی جِیل میں ڈار کرے تن کھیہ

اس محبت کا دستور ہی نرالا ہے پہلے تو محبت کرنے والے کو خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ محبوب کا عشق دل کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ محبوب کے جانے کے بعد اس کی یاد میں دل تڑپتا ہے اور عاشق کو مصیبت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

اس محبت کا دستور ہی نرالا ہے پہلے تو محبت کرنے والے کو خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ محبوب کا عشق دل کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ محبوب کے جانے کے بعد اس کی یاد میں دل تڑپتا ہے اور عاشق کو مصیبت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

برکت اللہ پیمی

پیمیؔ ہندو تُرک موں ہر رنگ رہو سماے

دیول اور مسیت موں دیپ ایک ہِیں بھاے

شاہ صاحب ہندو مسلم ایکتا کی تعلیم دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس قدرت کے جلوے دونوں میں ملتے ہیں۔ مندر اور مسجد میں جلائے جانے والے چراغ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔

شاہ صاحب ہندو مسلم ایکتا کی تعلیم دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس قدرت کے جلوے دونوں میں ملتے ہیں۔ مندر اور مسجد میں جلائے جانے والے چراغ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔

برکت اللہ پیمی

مَن یّہدِی اللہ کوں فَلا مُضِلّ لَہ کوے

نہچیں کے من جانیو اور نہ دوجا کوے

جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور ہدایت دینا صرف خدا کا کام ہے۔

جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور ہدایت دینا صرف خدا کا کام ہے۔

برکت اللہ پیمی

گت تہاری ادھک ہے مو مت سکے نہ گائے

جیو کتان سم چند کے ٹوک ٹوک ہو جائے

اللہ تعالی کی حمد بیان کرنا بندے کے لیے ناممکن ہے جس طرح کتان چاند کی روشنی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامھے بندے کی زبان بند ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالی کی حمد بیان کرنا بندے کے لیے ناممکن ہے جس طرح کتان چاند کی روشنی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامھے بندے کی زبان بند ہو جاتی ہے۔

برکت اللہ پیمی

پانچو پانچو پانچیو نبی چار ہو نانہہ

باچو گے دکھ پاپ تیں نانچو بیکنٹھ مانہہ

اے لوگوں تمھارے لیے اہل بیت (اہل بیت پانچ ہیں) کی محبت لازمی ہے حضرت محمدؐ ان چاروں کے سردار ہیں۔ اگر اہل بیت سے محبت رکھوگے تو تمہاری تکالیف اور گناہ دور ہو جائیں گے اور جنت میں ٹھکانا ہوگا۔

اے لوگوں تمھارے لیے اہل بیت (اہل بیت پانچ ہیں) کی محبت لازمی ہے حضرت محمدؐ ان چاروں کے سردار ہیں۔ اگر اہل بیت سے محبت رکھوگے تو تمہاری تکالیف اور گناہ دور ہو جائیں گے اور جنت میں ٹھکانا ہوگا۔

برکت اللہ پیمی

دَدھی مَن دیت ترنگ ِنت رنگ رنگ بستار

کوؤ ترنگ موتی سَہِت کاہو سنگ سیوار

دل ایک سمندر کی طرح ہے جس میں طرح طرح کی خواہشات کی لہریں اٹھتی ہیں کسی لہر کے ساتھ موتی آتے ہیں۔ اور کوئی لہر اپنے ساتھ کائی لاتی ہے۔ کیوں کہ تمام خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں

دل ایک سمندر کی طرح ہے جس میں طرح طرح کی خواہشات کی لہریں اٹھتی ہیں کسی لہر کے ساتھ موتی آتے ہیں۔ اور کوئی لہر اپنے ساتھ کائی لاتی ہے۔ کیوں کہ تمام خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں

برکت اللہ پیمی

الکھ لکھے جب آپ کوں لکھے نہ راکھے موہ

لکھیں پڑھیں کچھو ہوت نہیں کہے تو لکھ دیوں توہ

نور خداوندی کا جلوہ اسی وقت ممکن ہے جب بندہ اپنی ’انا‘ ترک کردے اور حرص سے اپنا دامن چھڑا لے۔ صرف کتابیں پڑھنے سے خدا نہیں ملتا۔ ظاہر کے ساتھ علم باطن بھی ضروری ہے

نور خداوندی کا جلوہ اسی وقت ممکن ہے جب بندہ اپنی ’انا‘ ترک کردے اور حرص سے اپنا دامن چھڑا لے۔ صرف کتابیں پڑھنے سے خدا نہیں ملتا۔ ظاہر کے ساتھ علم باطن بھی ضروری ہے

برکت اللہ پیمی

اورنگ جیب کے راج میں بھئی گرنتھ کی آس

پیمیؔ نانو بچار کے دھرا پیم پرکاش

میں نے اورنگ زیب کے دور حکومت میں اس کتاب کی تصنیف کا ارادہ کیا اور کتاب کا نام ’پیم پرکاش‘ (عشق و محبت کی روشنی) رکھا

میں نے اورنگ زیب کے دور حکومت میں اس کتاب کی تصنیف کا ارادہ کیا اور کتاب کا نام ’پیم پرکاش‘ (عشق و محبت کی روشنی) رکھا

برکت اللہ پیمی

مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرم کی چھین

ایک تو چاہیں ادھک کے اک تو دیکھیں ہین

خلفائے راشدین میں سے حضرت علی کو باقی تین خلفا سے افضل بتانا دانائی نہیں ہے۔

خلفائے راشدین میں سے حضرت علی کو باقی تین خلفا سے افضل بتانا دانائی نہیں ہے۔

برکت اللہ پیمی

تم جانی کچھو پیمؔ مگ باتن باتن جاے

پنتھ میت کو کٹھن ہے کھیلو پھاگ بناے

عشق ہنسی کھیل نہیں ہے اس میں بڑی زحمتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ راہ عشق پر چلنا اور منزل تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔

عشق ہنسی کھیل نہیں ہے اس میں بڑی زحمتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ راہ عشق پر چلنا اور منزل تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔

برکت اللہ پیمی

ست جو جائے تو رہے کیا نیتی گئے سب جائے

لجیا بنا نِلِّج ہے بن بدیا نہ اگھاے

انسان میں سچ، عدل، حیا اور علم چاروں کا ہونا ضروری ہے۔ سچ کے نہ رہنے سے کچھ نہیں رہتا۔ عدل کے ختم ہو جانے سے سب کچھ غارت ہو جاتا ہے۔ شرم و حیا کے خاتمے سے آدمی بے شرم ہو جاتا ہے اور علم حاصل نہ کرنے سے انسان جانور بن جاتا ہے۔

انسان میں سچ، عدل، حیا اور علم چاروں کا ہونا ضروری ہے۔ سچ کے نہ رہنے سے کچھ نہیں رہتا۔ عدل کے ختم ہو جانے سے سب کچھ غارت ہو جاتا ہے۔ شرم و حیا کے خاتمے سے آدمی بے شرم ہو جاتا ہے اور علم حاصل نہ کرنے سے انسان جانور بن جاتا ہے۔

برکت اللہ پیمی

لکھیں سبئی لیکھیں نہیں موہن پران سہاے

الکھ لکھے کؤ لاکھ موں لکھا لکھا تو کائے

خدا کی عظمت کا مکمل بیان ناممکن ہے۔ لاکھوں لوگوں میں سے ایک آدھ شخص ہی معرفت خداوندی حاصل کر پاتا ہے۔

خدا کی عظمت کا مکمل بیان ناممکن ہے۔ لاکھوں لوگوں میں سے ایک آدھ شخص ہی معرفت خداوندی حاصل کر پاتا ہے۔

برکت اللہ پیمی

بے حد کی حد میم سوں بھئی پیمؔ مد ہوے

بلا میم احمدؐ کہے او کاکی حد ہوے

احد اور احمد میں میم کا فرق ہے۔ اور اسی میم میں سارا عالم غرق ہو گیا۔

احد اور احمد میں میم کا فرق ہے۔ اور اسی میم میں سارا عالم غرق ہو گیا۔

برکت اللہ پیمی

ابی بکر اور عمر پن عثمان علی بکھان

ست نیتی اور لاج اتی بِدّیا بوجھ سجان

حضرات چار یار کی امتیازی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی بالترتیب سچ، عدل، حیا اور علم کے اعلیٰ ترین نمونے ہیں۔ لہٰذا ان چاروں کی عزت کرنا ضروری ہے۔

حضرات چار یار کی امتیازی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی بالترتیب سچ، عدل، حیا اور علم کے اعلیٰ ترین نمونے ہیں۔ لہٰذا ان چاروں کی عزت کرنا ضروری ہے۔

برکت اللہ پیمی

یُومِنُونَ بِالَغیب کوں آنکھ موند من پیل

سیکھو گرو سوں یہ جگت آنکھ مچونی کھیل

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر یقین رکھتے ہیں، انہیں کی پیروی کرنا چاہیے۔ (روحانی معاملات میں مراقبہ اہمیت پر زور دیا ہے اور یہ راستہ مرشد کامل ہی بتا سکتا ہے)

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر یقین رکھتے ہیں، انہیں کی پیروی کرنا چاہیے۔ (روحانی معاملات میں مراقبہ اہمیت پر زور دیا ہے اور یہ راستہ مرشد کامل ہی بتا سکتا ہے)

برکت اللہ پیمی

توہیں توہیں تب کہے ہونہیں ہونہیں جاے

جل گنگا میں مل گیو سر کی گئی بلاے

برکت اللہ پیمی

خسروؔ رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ

تن میرو من پیو کو دوؤ بھئے ایک رنگ

امیر خسرو

سادھو سنگ پرتاپ تیں شری گرو گیان پرکاش

شدھ نرنجن گیان لہی کینہوں وچن ولاس

سوامی بھگوان داس جی نرنجنی

جو نہں ادھم ادھارنو تو نہں گہتے پھینٹ

برد کی پیج سمہاری لو سکل چوک کو میٹ

دَیا بائی

جو میرے کرمن لکھو تو نہی ہوت ابار

دیا داسؔ پر دیا کری دیجئے چوک بسار

دَیا بائی

جگت سنیہی جیو ہے رام سنیہی سادھ

تن من دھن تجی ہری بھجیں جن کا متا اگادھ

دَیا بائی

پیرت تھاکو حے پربھو سوجھت وار نہ پار

مہر موج جب ہیں کرو تب پااؤں دربار

دَیا بائی

جیسو موتی اوس کا تیسو یہ سنسار

بنسی جاے چھن ایک میں دیاؔ پربھو ار دھار

دَیا بائی

سکل میگھ لے اندر جب برج پے برسو آئے

گوبر دھن نکھ پے دھرو سب برج لیو بچاے

دَیا بائی

کرم روپ دریاؤ سے لیجئے موہیں بچاے

چرن کمل تر راکھیے مہر جہاج چڑھائے

دَیا بائی

جیسے سورج کے ادے سکل تمر نس جائے

مہر تمہاری حے پربھو کیوں اگیان رہائے

دَیا بائی

کس بدھی ریجھت ہو پربھو کا کہی ٹیروں ناتھ

لہر مہر جب ہیں کرو تب ہیں ہوؤں سناتھ

دَیا بائی

بھائی بندھو کٹمب سب بھیے اکٹھے آئے

دنا پانچ کو کھیل ہے دیاؔ کال گرسئی جائے

دَیا بائی

ونیہ ملکہ - بھیموچن ارو سربمئے بیاپک اچل اکھنڈ

دیا سندھو بھگوان جو تاکئے سیو برہمنڈ

دَیا بائی

ٹیر سنی پرہلاد کی نرسنہہ ہو بنی آئے

ہرناکس کو ماری کئے جن کو لین بچاے

دَیا بائی

دیا دین پر کرت ہو سو کمی لیکھی جاہی

بید برد بولت پھرئے تین لوک کے ماہں

دَیا بائی

پوجا ارچن بندگی نہں سومرن نہں دھیان

پربھو جی اب راکھے بنے برد بانے کی کان

دَیا بائی

نہں سنجم نہں سادھنا نہں تیرتھ برت دان

مات بھروسے رہت ہے جیوں بالک نادان

دَیا بائی

کب کو ٹیرت دین بھو سنو نہ ناتھ پکار

کی سرون اونچو سنو کی برد دیو بسار

دَیا بائی

ہوں اناتھ توہں بنیہ کری بھیے سوں کروں پکار

دیا داسؔ تن ہرے پربھو اب کے پار اتار

دَیا بائی

بیر بیر چوکت گیوں دیجئے گسا بسار

مہربان ہوئ راورے میری اور نہار

دَیا بائی

ٹھگ پاپی کپٹی کٹل یہ لچھن موہیں ماہں

جیوسو تیسو تیر ہی ارو کاہو کو ناہں

دَیا بائی

ہاتھی بوڑو سونڈ لوں جب ہیں کری پکار

گراہتیں آن چھڑائیا لگی نہ رنچک بار

دَیا بائی

دیاؔ ناؤ ہری نام کی ست گرو کھیونہار

سادھو جن کے سنگ ملی ترت نہ لاگے بار

دَیا بائی

لاکھ چوک ست سے پرئے سو کچھو تجی نہی دیہہ

پوش چچک لے گود میں دن دن دونوں نیہ

دَیا بائی

دیہہ دھروں سنسار میں تیرو کہی سب کوے

ہانسی ہوئے تو تورہی میری کچھو نہ ہوئے

دَیا بائی

بھوجل ندی بھیاونی کس بدھی اتروں پار

صاحب میری ارج ہے سنئے بارمبار

دَیا بائی

لوہا پارس کے نکٹ کنچن ہی سو ہوئے

جتنا چاہئے لیے کریے لوہا کہے نہ کوے

دَیا بائی