Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Qadir Bakhsh Bedil's Photo'

قادر بخش بیدلؔ

1815 - 1873 | سندھ, پاکستان

چہار زبان کے عظیم روحانی شاعر

چہار زبان کے عظیم روحانی شاعر

قادر بخش بیدلؔ کے اشعار

باعتبار

ووئی مارے انا الحق دم کرے اظہار سر بہم

کوئی باندھے کمر محکم جو آپے آپ سوں لڑنا

نہیں بندہ حقیقت میں سمجھ اسرار معنی کا

خودی کا وہم برہم زن پچھے بے خود خدائی کر

جوئی اول سوئی آخر جوئی ظاہر سوئی باطن

خودی کے ترک میں جلدی سے مخفی سب عیاں ہوگا

تیرے نین پر خمار کوں سرمست بادہ ناز

یا بے خودی کا جام یا سحر بلا کہوں

جگ میں سمجھ کہ غیر خدا اور کچھ نہیں

ووہی دکان دار خریدار اور ووہی متاع

معشوق بے پرواہ آگے گرچہ عبث ہے التجا

عشاق کو بہتر نہیں زیں شیوہ کار دگر

اندھارے میں پڑا ہوں کثرت کے وہم سے

وحدانیت کا لطف سوں روشن چراغ بخش

عطارؔ من خدا کا نکارا بجایا خوب

عارف ایسے سخن میں ہے بے اختیار محض

اندھارے میں پڑا ہوں کثرت کے وہم سے

وحدانیت کا لطف سوں روشن چراغ بخش

وہ ہے لیلیٰ و مجنوں وہی ہے بلبل و گل

وہی ہے شکر و مگس لا الہٰ الا ہو

بلبل صفت اے گل بدن اس باغ میں ہر صبح

تیری بہارستان کا دیوانہ ہوں دیوانہ ہوں

دوالی ٹوڑ کثرت کی جسم سے اب جدائی کر

تجلیٰ دیکھ وحدت کا گھر اپنے روشنائی کر

روز ازل الست کا مذکور ہو چکا

صاحب دلاں کی کان پر آواز ہے ہنوز

ابر تمہارے کوں جو ہے بہ شکل ہلال عید

محراب سجدہ طاعت اہل صفا کہوں

اے گل بدن میرا توں چمن سے نہ جا نہ جا

روحی فداک یعنی وطن سے نہ جا نہ جا

تیرے حسن کی دیکھ تجلی اے رشک حور

سورج کہوں کہ چاند کہ نور خدا کہوں

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے