تلاش کا نتیجہ "faran karachi shumara number 011 mahirul qadri magazines"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
جو نظر کامیاب ہوتی ہےآپ اپنا جواب ہوتی ہے
تصور میں جو پھولوں کا سماں ہےقفس کی شام صبح گلستاں ہے
اعتبار بندگی کو تابکے رسوا کریںآؤ ان کے آستاں پر آخری سجدہ کریں
یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کوکیا ہے برق نے روشن سیاہ خانے کو
پہلی نظر تھی دل کا مولاب آنسو کے موتی رول
وہ ہنس ہنس کے وعدے کئے جا رہے ہیںفریب تمنا دئے جا رہے ہیں
دیکھنا یہ کون بے پردہ نمایاں ہو گیاایک عالم بے نیاز کفر و ایماں ہو گیا
سفینہ مرا ساحل آشنا معلوم ہوتا ہےمجھے یہ بھی فریب نا خدا معلوم ہوتا ہے
رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہےیعنی سر نیاز جھکانے کی دیر ہے
اپنی ہستی کا جو حاصل کہیں عرفاں ہوجائےہر حقیقت دل انساں پہ نمایاں ہوجائے
بارہا تیری نوازش نے جسے تھام لیااس نے کچھ سوچ کے پھر آج طرح نام لیا
وہ راتیں جو کہ تھی موزوں الفت کی کہانی کاوہ راتیں جن پہ سایہ تھا نشاط و شادمانی کا
عشق کی زندگی کو کیا کہیےاپنی قسمت کسی کو کیا کہیے
ان کی جانب سبھی پیغام کوئی لائی ہےیا نسیم سحری یوں ہی چلی آئی ہے
وہ آ رہا ہے کیف کی جنت لئے ہوئےہر جنبش نگاہ میں عشرت لئے ہوئے
حسن کی خوابیدہ محفل کو جگا دیتا ہوں میںکس بلندی سے خدا جانے صدا دیتا ہوں میں
تجھے اک نظر دیکھنا چاہتا ہوںمیں اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں
خانقاہوں میں جو قالین سجا رکھے ہیںدام ہم رنگ زمیں ہیں کہ بچھا رکھے ہیں
ہر سر ہے تیری زلف کا سودا لئے ہوئےصبح حرم ہے شام کلیسا لئے ہوئے
خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیااس نے جس جلوے کو جب چاہا نمایاں کر دیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books