صوفی اورسنتوں کی فہرست
سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام
عاقل خان رازیؔ
مولانا محمد حسین بخش تاثیر شاہ کے مرید و مجاز
عبدالقدوس گنگوہی
ایک عظیم صوفی بزرگ اور اہلِ اللہ میں سے تھے جنہوں نے تصوف کے اصولوں کو اپنانا اور لوگوں کو روحانی بیداری کی طرف رہنمائی کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنایا، وہ سلسلۂ چشتیہ صابریہ کے ایک اہم بزرگ اور ایک ممتاز رہنما تھے۔
افقر موہانی
معروف ہندوستانی شاعر اور حاجی وارث علی شاہ کے مرید
احمد شاہجہان پوری
توحید و تصوف کے شاعر
امین الدین وارثی
روحانی شاعر اور "وارث بیکنٹھ پٹھاون" کے مصنف
خواجہ نظام الدین اولیا کے چہیتے مرید اور فارسی و اردو کے پسندیدہ صوفی شاعر، ماہر موسیقی، انہیں طوطی ہند بھی کہا جاتا ہے۔
بے نظیر شاہ وارثی
حاجی وارث علی شاہ کے ممتاز مرید اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید
بسمل الہ آبادی
نوح ناروی کے شاگرد، شاعری میں عوامی روز مرہ کو جگہ دی، غزلوں کے ساتھ اہم مذہبی اور ملی شخصیات پر نظمیں لکھیں
بو علی شاہ قلندر
ہندوستان کے جلیل القدر صوفی بزرگ جو خواجہ نظام الدین اؤلیا کے معاصر تھے، جن کی روحانی جولانگاہ علم، عشق، شاعری اور معرفت سے معمور تھی اور جن کی نظرِ کرم آج بھی دلوں کو سیراب کرتی ہے۔
چندر بھان کیفی دہلوی
اردو کے ممتاز شاعر تھے جو قومِ کائستھ کے ماتھر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، فارسی و اردو ادب پر گہری دسترس رکھتے تھے اور تحریکِ آزادی و سودیشی تحریک سے وابستہ رہتے ہوئے اپنی شاعری کے ذریعے قومی شعور کو فروغ دیتے رہے۔
مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز کے بڑے صاحبزادے جنہوں نے صوفیانہ روایت کو مزید جلا بخشی، ان کے تعلقات سکھوں کے گرووں سے نہایت خوشگوار تھے۔
پاکستان کے مشہور صوفی اور کشف المحجوب کے مصنف
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بحیثیت استاد اور ’’مختصر تاریخِ مشائخِ اودھ‘‘ کے مصنف
ڈاکٹر شمیم منعمی
خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی کے معروف سجادہ نشیں
فراق دہلوی
خواجہ میر درد کے نواسے، صوفی شاعر، مترجمِ قرآن اور میخانۂ درد کے مصنف تھے۔
غنی کشمیری
برصغیر کے عظیم فارسی گو شاعر تھے جن کے کلام کو میر، اقبال اور غالب جیسے اکابر نے سراہا۔
غلام ہمدانی مصحفی
اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر
غلام سرور لاہوری
عالم، فاضل، ادیب، شاعر، مؤرخ اور سوانح نگار ہوئے ہیں۔
حفیظ جالندھری
حکیم سنائی
مشہورغزل گو شاعر اور فلسفی
’’آثارِ کاکو‘‘ کے مصنف اور عطاؔ کاکوی کے والد محترم
امام غزالی
اسلامی دنیا کے عظیم فقیہ، صوفی اور مفکر تھے، "احیا علوم الدین" ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔
پندرہویں صدی کے ایک صوفی شاعر اور سنت جنہیں بھگت کبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کبیر اپنے دوہے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، انہیں بھگتی تحریک کا سب سے بڑا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔