عرش گیاوی کے اشعار
تمہیں علم کچھ جو ہو عالمو تو بتا دو مجھ کو نہ چپ رہو
کہ شراب عشق کا مست ہوں یہ حلال ہے کہ حرام ہے
میں وہ گل ہوں نہ فرصت دی خزاں نے جس کو ہنسنے کی
چراغ قبر بھی جل کر نہ اپنا گل فشاں ہوگا
تم قبر پر آئے ہو مری پھول چڑھانے
مجھ پر ہے گراں سایۂ برگ گل تر بھی
میں وہ گل ہوں نہ فرصت دی خزاں نے جس کو ہنسنے کی
چراغ قبر بھی جل کر نہ اپنا گل فشاں ہوگا
جہاں ہیں محو نغمہ بلبلیں گل جس میں خنداں ہیں
اسی گلشن میں کل زاغ و زغن کا آشیاں ہوگا
فراق میں ہیں ہم انداز دل کا پائے ہوئے
یہ وہ چراغ ہے جلتا ہے بے جلائے ہوئے
وہ مجنوں کی تصویر پر پوچھنا
تری کس کے غم میں یہ صورت ہوئی
ذبح کرتی ہے جدائی مجھ کو اس کی صبح وصل
خواب سے چونک اے موذن وقت ہے تکبیر کا
وہ لوگ منزل پیری میں ہیں جو آئے ہوئے
خیال قبر میں بیٹھے ہیں سر جھکائے ہوئے
نہ ہوتی دل میں الفت اپنی کیوں قاتل کے ابرو کی
کہ مجھ کو تو قتیل خنجر سفاک ہونا تھا
درد کی صورت اٹھا آنسو کی صورت گر پڑا
جب سے وہ ہمت نہیں کسی بل نہیں طاقت نہیں
قاتل وہ شاخ ہے تری یہ تیغ آب دار
جس کو نہ گل کا غم ہے نہ حاجت ثمر کی ہے
مے سے چلو بھر دے ساقی جام کا کیا انتظار
ابر آیا جھوم کر موقع نہیں تاخیر کا
کس طرح نہ پہلو میں رقیبوں کو جگہ دے
آغوش میں ہر سنگ کے ہوتا ہے شرر بھی
یہی پہچان بحر غم میں ہوگی میری کشتی کی
نہ اس پر ناخدا ہوگا نہ اس میں بادباں ہوگا
جان چھوٹے الجھنوں سے اپنی یہ قسمت نہیں
موت بھی آئے تو مرنے کی مجھے فرصت نہیں
گھیرے ہوئے کشتی کو ہے طوفاں بھی بھنور بھی
حاصل ہے مجھے گھر بھی یہاں لطف سفر بھی
اور ہیں جن کو ہے خبط عشق حوران جناں
ہم کو سودائے ہوائے گلشن جنت نہیں
تو وہ گل رعنا ہے جو آ جائے چمن میں
جھوما کریں اک وجد کے عالم میں شجر بھی
گل گیر کا خطر تو پتنگوں کی ہے خلش
آفت میں جان شام سے شمع سحر کی ہے
اور ہیں جن کو ہے خبط عشق حوران جناں
ہم کو سودائے ہوائے گلشن جنت نہیں
لئے پھرتی ہے اشکوں کی روانی
رواں ہوں کشتی آب رواں پر
میں وہ گل ہوں نہ فرصت دی خزاں نے جس کو ہنسنے کی
چراغ قبر بھی جل کر نہ اپنا گل فشاں ہوگا
اس نے لکھا خط میں یہ شکوہ نہ کرنا جور کا
ہم نے لکھ بھیجا ہے اتنا اپنی یہ عادت نہیں
میں وہ گل ہوں نہ فرصت دی خزاں نے جس کو ہنسنے کی
چراغ قبر بھی جل کر نہ اپنا گل فشاں ہوگا
ازل سے مرغ دل کو خطرۂ صیاد کیا ہوتا
کہ اس کو تو اسیر حلقۂ فتراک ہونا تھا
گھیرے ہوئے کشتی کو ہے طوفاں بھی بھنور بھی
حاصل ہے مجھے گھر بھی یہاں لطف سفر بھی
سب کچھ خدا نے مجھ کو دیا عرشؔ بے طلب
دختر کی آرزو نہ تمنا پسر کی ہے
اے عرشؔ آؤ خاک میں دلی کے سو رہیں
مٹ کر بھی خواب گاہ یہ اہل ہنر کی ہے
یہ رعب ہے چھایا ہوا شام شب غم کا
دیتا نہیں آواز بجانے سے گجر بھی
تری راہ میں جو فنا ہوئے کہوں کیا جو ان کا مقام ہے
نہ یہ آسمان ہے نہ یہ زمیں نہ یہ صبح ہے نہ یہ شام ہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere