Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Sanjar Ghazipuri's Photo'

سنجر غازیپوری

غازی پور, بھارت

سنجر سے غازی پور ہجرت کرنے والے ایک چشتی شاعر

سنجر سے غازی پور ہجرت کرنے والے ایک چشتی شاعر

سنجر غازیپوری کے اشعار

باعتبار

آنکھ ملتے ہی کسی معشوق سے

پھر طبیعت کیا سنبھالی جائے گی

دہر فانی میں ہنسی کیسی خوشی کیا چیز ہے

رونے آئے تھے یہاں دو چار دن کو رو

آمنہ بی بی کے دلارے

عبداللہ کی آنکھ کے تارے

جھولو جھولنا محمدؐ بی بی آمنہ کے لال

حسن ہے دل کش ادا نرالی

رک گئے آنسو مرے درد جگر کچھ کم ہوا

اس بت سیمیں بدن کا جب نظارہ ہو گیا

آہ اس پردہ نشیں کی جستجو میں جو گئے

کچھ پتہ پایا نہ اس کا خود ہی جا کر کھو گئے

جب خدا سے لو لگائی جائے گی

پھر دعا کب کوئی خالی جائے گی

جب خدا سے لو لگائی جائے گی

پھر دعا کب کوئی خالی جائے گی

دہر فانی میں ہنسی کیسی خوشی کیا چیز ہے

رونے آئے تھے یہاں دو چار دن کو رو گئے

جو مانگنا ہو خدا سے مانگو اسی سے بخشش کی التجا ہو

گناہ ڈھل کر ہو پانی پانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

خواجہ توری صورت پہ میں واری

نوری پریم ادا پہ میں واری

جو عاشق ہیں تیرے تڑپتے نہیں ہیں

کبھی آہ و نالے وہ کرتے نہیں ہیں

عشق میں اس شعلہ رو کے ایسے بے خود ہو گئے

آپ بھی آنے نہ پائے تھے کی آخر کھو گئے

غیر منہ تکتا رہا میں عرض مطلب کر چکا

مجھ سے ان سے آنکھوں آنکھوں میں اشارہ ہو گیا

نیک و بد دو ہی عمل جاتے ہیں دم کے ساتھ ساتھ

قبر میں شامل میرے یہ بن کے رہبر دو گئے

عشق تیرا جو اے دل ربا ہو گیا

تھا جو قسمت کا لکھا ادا ہو گیا

رنگ لائے گا مرا سوز محبت قبر میں

استخواں ہو جائے گا شعلے کفن جل جائے گا

یہ ہیں خون بسمل کی دھاریں اے قاتل

تری آنکھوں میں سرخ ڈورے نہیں ہیں

سخت جاں سنجرؔ ہوا ہے عشق میں

تیغ اب قاتل کی خالی جائے گی

دل اپنا محمدؐ کا کاشانہ بنا ڈالا

اجڑے ہوئے اس گھر کو شاہانہ بنا ڈالا

جو مانگنا ہو خدا سے مانگو اسی سے بخشش کی التجا ہو

گناہ ڈھل کر ہو پانی پانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے