عبدالرحمٰن احسان دہلوی کے اشعار
وہی انسان ہے احساںؔ کہ جسے علم ہے کچھ
حق یہ ہے باپ سے افزوں رہے استاد کا حق
وہ بحر حسن شاید باغ میں آوے گا اے احساںؔ
کہ فوارہ خوشی سے آج دو دو گز اچھلتا ہے
وہی انسان ہے احساںؔ کہ جسے علم ہے کچھ
حق یہ ہے باپ سے افزوں رہے استاد کا حق
بے خودی گر ہو خود تو آ کے ملے
اے خدا بے خودی عجب شے ہے
جلا ہوں آتش فرقت سے میں اے شعلہ رو یاں تک
چراغ خانہ مجھ کو دیکھ کر ہر شام جلتا ہے
محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
ہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے
ناصحو گر نہ سنوں میں مری قسمت کا قصور
تم نے ارشاد کیا جو کہ ہے ارشاد کا حق
وہی انسان ہے احساںؔ کہ جسے علم ہے کچھ
حق یہ ہے باپ سے افزوں رہے استاد کا حق
کسی کا ساتھ سونا یاد آتا ہے تو روتا ہوں
مرے اشکوں کی شدت سے سدا گل تکیہ گلتا ہے
اے غم مجھے یاں اہل تعیش نے ہے گھیرا
اس بھیڑ میں تو اے مرے غم خوار کہاں ہے
بے خودی گر ہو خود تو آ کے ملے
اے خدا بے خودی عجب شے ہے
نو خط تو ہزاروں ہیں گلستان جہاں میں
ہے صاف تو یوں تجھ سا نمودار کہاں ہے
نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے
نکل اے جان تو ہی وہ نہیں گھر سے نکلتا ہے
صدا ہی میری قسمت جوں صدائے حلقۂ در ہے
اگر میں گھر میں جاتا ہوں تو وہ باہر نکلتا ہے
آپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب
بہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے
خوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ
ہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے
جن سے کہ ہو مربوط وہی تم کو ہے میمون
انسان کی صحبت تمہیں درکار کہاں ہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere