Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Seemab Akbarabadi's Photo'

سیماب اکبرآبادی

1880 - 1951 | آگرہ, بھارت

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد اور حاجی وارث علی شاہ کے مرید

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد اور حاجی وارث علی شاہ کے مرید

سیماب اکبرآبادی کے اشعار

باعتبار

میں جیا بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی

یہ نہ کھل سکا لیکن آپ کی خوشی کیا تھی

کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے

ترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہے

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

عشق خود مائل حجاب ہے آج

حسن مجبور اضطراب ہے آج

وہ عروج ماہ وہ چاندنی وہ خموش رات وہ بے خودی

وہ تصورات کی سر خوشی ترے ساتھ راز و نیاز میں

اس در فیض سے امید بندھی رہتی ہے

اور مدینہ کی طرف آنکھ لگی رہتی ہے

وہاں ہوں میں جہاں تمئیز حسن و عشق مشکل ہے

ہر اک جلوہ اب آغوش نظر میں جلوۂ دل ہے

مرا داغ سجدہ مٹائے کیوں فلک اس کو چاند بنائے کیوں

کہ یہ داغ حاصل عاشقی ہے مری جبین نیاز میں

وہ میرے سر کو ٹھکراتے ہیں سجدوں سے خفا ہو کر

جبیں سے میری پیوستہ ہے ان کا آستاں پھر بھی

وہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہو

میسر جس کو سیر تاج اور جمنا کا ساحل ہے

مصلحت یہ ہے خودی کی غفلتیں طاری رہیں

جب خودی مٹ جائے گی بندہ خدا ہو جائے گا

زندگی جس میں سانس لیتی تھی

وہ زمانہ خیال و خواب ہے آج

الٰہی بھید تیرے اس نے ظاہر کر دیئے سب پر

کہا تھا کس نے تو سیمابؔ کو انسان پیدا کر

دیجئے ان کو کنار آرزو پر اختیار

جب وہ ہوں آغوش میں بے دست و پا ہو جائیے

کیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامراد

گزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا

جلوۂ ہر روز جو ہر صبح کی قسمت میں تھا

اب وہ اک دھندلا سا خواب دوش ہے تیرے بغیر

ہم تلخیٔ قسمت سے ہیں تشنہ لب بادہ

گردش میں ہے پیمانہ پیمانے سے کیا کہئے

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

سیمابؔ کوئی مرتبہ منصور کا نہ تھا

لفظ خودی کی شرح نہ مشہور کر دیا

نہیں آنکھ جلوہ کش سحر یہ ہے ظلمتوں کا اثر مگر

کئی آفتاب غروب ہیں مرے غم کی شام دراز میں

سیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمر

کم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا

اجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میں

مری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے

دیجئے ان کو کنار آرزو پر اختیار

جب وہ ہوں آغوش میں بے دست و پا ہو جائیے

غم عشق سے سرگراں اور بھی ہیں

جہاں ہم ہیں شاید وہاں اور بھی ہیں

مے کدہ غم کدہ ہے تیرے بغیر

سرنگوں شیشۂ شراب ہے آج

انسان کے دل میں گھٹ گھٹ کر جو روح کو کھائے جاتا ہے

ہمت تھی اگر تو دنیا نے اس راز کو افشا کر نہ دیا

آپ کی آواز میں ہے دعوت منزل کا راز

کاروان شوق کی بانگ درا ہو جائیے

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی

عربی نہیں عجمی سہی مگر آرزو ہے کہ وارثیؔ

کبھی اپنا نغمۂ مشرقی میں سنوں نوائے حجاز میں

ہم تو اپنی بے خودیٔ شوق میں سرشار تھے

آپ سے کس نے کہا تھا خود نما ہو جائیے

مصلحت یہ ہے خودی کی غفلتیں طاری رہیں

جب خودی مٹ جائے گی بندہ خدا ہو جائے گا

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

کیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامراد

گزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا

سیمابؔ کی سرمستی اور غم کدۂ ہستی

دیوانہ ہے دیوانہ دیوانے سے کیا کہئے

غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوں

چلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے