Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

اکبر وارثی میرٹھی

- 1953 | میرٹھ, بھارت

میلاد اکبر کے مصنف اور نعت گو شاعر

میلاد اکبر کے مصنف اور نعت گو شاعر

اکبر وارثی میرٹھی کے اشعار

باعتبار

اس آنکھ سے جس آنکھ نے مخمور دو عالم کئے

میری طرف بھی دیکھنا مولا علی مشکل کشا

جو تمہاری بات ہے ہے وہ زمانہ سے جدا

شوخیاں ایجاد کرتے ہو بڑے استاد ہو

نکل کر زلف سے پہنچوں گا کیونکر مصحف رخ پر

اکیلا ہوں اندھیری رات ہے اور دور منزل ہے

کبھی دیر و کعبہ بتا دیا کبھی لا مکاں کا پتا دیا

جو خودی کو ہم نے مٹا دیا تو وہ اپنے آپ میں پا گئے

سنبھالو تو تم اپنی تیغ ادا کو

مری جاں دہی کے ہنر دیکھ لینا

وفائیں یاد کر کے وہ بہا جاتے ہیں روز آنسو

رہے گا حشر تک سرسبز سبزہ میری تربت کا

نہ پوچھو پتہ اکبرؔ غم زدہ کا

کہیں ہوگا تھامے جگر دیکھ لینا

آپ کے فیض سے بہر فضل خدا

موجزن موجزن موجزن ہو گیا

کہا اس نے کہ اکبرؔ کس کے عاشق ہو کہا میں نے

تمہاری پیاری عادت کا تمہاری بھولی صورت کا

میں ہمیشہ اسیر الم ہی رہا مرے دل میں سدا تیرا غم ہی رہا

مرا نخل امید قلم ہی رہا میرے رونے کا کوئی ثمر نہ ملا

لکھی کیا نعت ہے اللہ اکبر

خدائے پاک محشر میں جزا دے

ادا غمزے کرشمے عشوے ہیں بکھرے ہوئے ہر سو

صف مقتل میں یا قاتل ہے یا انداز قاتل ہے

تجھ سے ملنے کا بتا پھر کون سا دن آئے گا

عید کو بھی مجھ سے گر اے میری جاں ملتا نہیں

کم نہیں گلشن میں شبنم گل بدن گل پیرہن

غسل کر مل مل کے گر آب رواں ملتا نہیں

کہوں کیا کہ گلشن دہر میں وہ عجب کرشمے دکھا گئے

کہیں عاشقوں کو مٹا گئے کہیں لن ترانی سنا گئے

جیسی چاہے کوششیں کر واعظ باطن خراب

تیرے رہنے کو تو جنت میں مکاں ملتا نہیں

سب تماشے آپ میں ہیں دیکھ لو اور چھوڑ دو

کوہ کی تفتیش بن کر فکر گلشن کی تلاش

گر دل میں چشم بینا ہو بت خانہ ہو یا کعبہ ہو

گھر گھر میں ہیں اس کے درشن سبحان اللہ سبحان اللہ

رہزن ایمان تو جلوہ دکھا جائے اگر

بت پجیں مندر میں مسجد میں خدا کی یاد ہو

جمال عارض تاباں دکھا دے

مریض غم کو قرآں کی ہوا دے

جدائی میں لب خشک ہیں چشم تر ہیں

ادھر بھی شۂ بحر و بر دیکھ لینا

بٹھائیں گے آنکھوں میں دل میں تجھے ہم

پسند آئے جو تجھ کو گھر دیکھ لینا

ستم کو چھوڑ بد اچھا برا بدنام دنیا میں

جفا کے ساتھ تیرا نام اے قاتل نکلتا ہے

سیر کر دے اب کہ گلشن بیں ہے ہنگام بہار

ہم اسیروں کی رہائی اب تو اے صیاد ہو

پس مردن تو مجھ کو قبر میں راحت سے رہنے دو

تمہاری ٹھوکروں سے اڑتا ہے خاکہ قیامت کا

یہی خیر ہے کہیں شر نہ ہو کوئی بے گناہ ادھر نہ ہو

وہ چلے ہیں کرتے ہوئے نظر کبھی اس طرف کبھی اس طرف

اب اجازت دفن کی ہو جائے تو جنت ملے

یار کے کوچے میں ہم نے جائے مدفن کی تلاش

ہرے کپڑے پہن کر پھر نہ جانا یار گلشن میں

گلوئے شاخ گل سے خون ٹپکے گا شہادت کا

جو خدا کہوں تو خدا نہیں جو جدا کہوں تو جدا نہیں

کوئی نکتہ ہم سے چھپا نہیں ہمیں پیچ و تاب میں آ گئے

اب اجازت دفن کی ہو جائے تو جنت ملے

یار کے کوچے میں ہم نے جائے مدفن کی تلاش

میرے سر کو میرے دل کو میری آنکھوں کو رہے

ترے در کی تیرے گھر کی تیرے آنگن کی تلاش

ہے باریک تار نظر سے زیادہ

دکھائی نہ دے گی کمر دیکھ لینا

جلوے سے ترے ہے کب خالی پھل پھول پھلی پتہ ڈالی

ہے رنگ ترا گلشن گلشن سبحان اللہ سبحان اللہ

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے