خواجہ رکن الدین عشقؔ کے اشعار
قاتل نے پائمال کیا جب سے خون عشقؔ
سب شغل چھوڑ کر وہ ہوا ہے حنا پرست
مضمون یہ عشقؔ دل میں میرے آیا
اس رمز رسالت کو نظر سے پایا
دلبر میں دل یا دلبر دل میں ہے
عشقؔ اس کو بتا کس طرح سے غیر کہوں
پہنچا ہے جب سے عشق کا مجھ کو سلام خاص
دل کے نگیں پہ تب سے کھدایا ہے نام خاص
جس دن سے بوئے زلف لے آئی ہے اپنے ساتھ
اس گلشن جہاں میں ہوا ہوں صبا پرست
جس کی نظر عشقؔ کے اوپر پڑی
چشم کے تئیں اپنی وہ تر کر گیا
گرچہ کیفیت خوشی میں اس کی ہوتی ہے دو چند
پر قیامت لطف رکھتی ہے یہ جھنجھلانے کی طرح
تنزیہہ سے میں عالم تشبیہ میں آہ
گویا ہوں زباں سے لا الہ الا اللہ
رہی یہ آرزو آخر کے دم تک
نہ پہنچا سر مرا تیرے قدم تک
جل ہی گیا فراق تو آتش سے ہجر کی
آنکھوں میں مری رہ نہ سکا یارو انتظار
اس چمن کی سیر میں اے گلعذار
عشقؔ کی آنکھوں میں طوفاں یا نصیب
مقدور کیا جو کہہ سکوں کچھ رمز عشق کو
جوں شمع ہوں اگرچہ سراپا زبان عشق
چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا
جان سے وہ اپنی گزر کر گیا
سرسبز گل کی رکھے خدا ہر روش بہار
اے باغباں نصیب ہو تجھ کو بلائے گل
سرسبز گل کی رکھے خدا ہر روش بہار
اے باغباں نصیب ہو تجھ کو بلائے گل
کچھ آرزو سے کام نہیں عشقؔ کو صبا
منظور اس کو ہے وہی جو ہو رضائے گل
مے خانہ میں خودی کو نہیں دخل شیخ جی
بے خودی ہوا ہے جن نے پیا ہے وہ جام خاص
میں ہاتھ میں ہوں باد کے مانند پر کاہ
پابند نہ گھر کا ہوں نہ مشتاق سفر کا
عشقؔ عاشق ہوا اسی کوں دیکھ
دل نالاں بہ رنگ عود ہوا
اس چمن کی سیر میں اے گلعذار
عشقؔ کی آنکھوں میں طوفاں یا نصیب
آتش سے گل کی داغ مگر عشقؔ کھائے تھے
آئی جو پیشوا تجھے لینے کو نو بہار
لیل و نہار چاہے اگر خوب گزرے عشقؔ
کر ورد اس کے نام کو تو صبح و شام کا
صورت پرست و راج پرست و صنم پرست
معنی میں دیکھئے تو سبھی ہیں خدا پرست
آنکھ جو دیکھ ہو گئے مغرور
دل پکارا ہنوز دلی دور
اس بلبل اسیر کی حسرت پہ داغ ہوں
مر ہی گئی قفس میں سنی جب صدائے گل
اس کو نکالے کوئی کس طور سے
تیر مژہ سینے میں گھر کر گیا
کہیو اے قاصد پیام اس کو کہ تیرے ہجر سے
جاں بہ لب پہنچا نہیں آتا ہے تو یاں اب تلک
کر قتل شوق سے میں تصدق ہوا ہوا
سرکار نہیں ہے فکر جو ہوا انتظار خاص
کیوں کر نہ چلیں گلشن دنیا میں یہ لویں
ہو گئی ہے میاں آہ کی تاثیر ہوا پر
لذتیں دیں غافلوں کو قاسم ہشیار نے
عشق کی قسمت ہوئی دنیا میں غم کھانے کی طرح
صورت پرست و راج پرست و صنم پرست
معنی میں دیکھئے تو سبھی ہیں خدا پرست
اس تنگ نائے دھر سے باہر قدم کو رکھ
ہے آسماں زمیں سے پرے وسعت مزار
دل تو اور ہی مکاں میں پھرتا ہے
نہ زمیں ہے نہ آسماں ہے یاد
لذتیں دیں غافلوں کو قاسم ہشیار نے
عشق کی قسمت ہوئی دنیا میں غم کھانے کی طرح
پھولے نہیں سماتے ہو جامہ میں مثل گل
پہنچا ہے تم کو آج کسو کا پیام خاص
غیر حق سے جو حق کو مانگ لیا
شیخ جی پر کرے نہ کھلّی حور
جبر اس اس طرح اٹھائے ہیں
دیکھ عالم مجھے ہوا مجبور
لوٹے گا سب بہار تری شحنۂ خزاں
بلبل پر کر لے تو زر گل کو نثار شاخ
مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ
میں کیا کہ اور کتنے ہی بسمل تڑپ تڑپ
ٹک ایک انصاف سے اگر دیکھو
عشقؔ سا کوئی چشم تر دیکھا
عشقؔ کس بات پر لگایا دل
تھی بتوں کی تو دلبری مشہور
لوٹے گا سب بہار تری شحنۂ خزاں
بلبل پر کر لے تو زر گل کو نثار شاخ
چلتا ہوں راہ عشق میں آنکھوں سے مثل اشک
پھوٹیں کہیں یہ آبلے سرسبز ہوویں خار
گلزار میں دنیا کے ہوں جو نخل بھچنپا
خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوف قہر کا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere