احسن اللہ خاں بیان کے اشعار
خوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے
گر کسی سے پھر کبھی قصد آشنائی کا کروں
وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا
آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں
چراغ گور نہ شمع مزار رکھتے ہیں
بس ایک ہم یہ دل داغ دار رکھتے ہیں
قیامت آ چکی دیدار حق ہوا سب کو
ہم اب تلک بھی ترا انتظار رکھتے ہیں
آپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ
آہ کس کا سراغ رکھتے ہیں
جا کہے کوئے یار میں کوئی
مر گیا انتظار میں کوئی
دعا کہہ کر چلا بندہ سلام آ کر کرے گا پھر
خط آوے جب تلک تو بندگی سے خوب جاتا ہے
دل ہمارا کہ گھر یہ تیرا تھا
کیوں شکست اس مکان پر آئی
حاجت شمع کیا ہے تربت پر
ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں
اور بھی ان نے بیاںؔ ظلم کچھ افزود کیا
کیا اس شوخ سے تیں عشق کا اظہار عبث
یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ
بلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ
غیر کے آگے دل کی بات بیاںؔ
آہ میری زبان پر آئی
فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر
واں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر
فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم
مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی
تیرے داغوں کی دولت اے گل رو
ہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں
میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا
گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا
وہ کون دن ہے کہ غیروں کو خط نہیں لکھتا
قلم کے بن کو لگے آگ اور جلے کاغذ
کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ
کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث
دل بجھا جائے ہے اغیار کی شورش پہ مرا
سرد کرتی ہے تری گرمئ بازار مجھے
اس دودھ کا خدا کرے کاسہ ہمیں نصیب
جنت میں پنج تن کی جو بہتی ہے جوئے شیر
مارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخ
کیا جانیے کون سی ادا تھی
جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں
آسماں پر دماغ رکھتے ہیں
جوں مثال اس کی نمودار ہوئی توں ہی بیاںؔ
طپش دل نے کیا خواب سے بیدار مجھے
ٹک شکایت کی اب اجازت ہو
نہیں رکتی زبان پر آئی
کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ
کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث
نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ
عیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخ
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere