Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

احسن اللہ خاں بیان

1727 - 1798 | حیدرآباد, بھارت

احسن اللہ خاں بیان کے اشعار

باعتبار

وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا

آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں

خوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے

گر کسی سے پھر کبھی قصد آشنائی کا کروں

اور بھی ان نے بیاںؔ ظلم کچھ افزود کیا

کیا اس شوخ سے تیں عشق کا اظہار عبث

دل ہمارا کہ گھر یہ تیرا تھا

کیوں شکست اس مکان پر آئی

دعا کہہ کر چلا بندہ سلام آ کر کرے گا پھر

خط آوے جب تلک تو بندگی سے خوب جاتا ہے

آپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ

آہ کس کا سراغ رکھتے ہیں

جا کہے کوئے یار میں کوئی

مر گیا انتظار میں کوئی

وہ کون دن ہے کہ غیروں کو خط نہیں لکھتا

قلم کے بن کو لگے آگ اور جلے کاغذ

چراغ گور نہ شمع مزار رکھتے ہیں

بس ایک ہم یہ دل داغ دار رکھتے ہیں

اس دودھ کا خدا کرے کاسہ ہمیں نصیب

جنت میں پنج تن کی جو بہتی ہے جوئے شیر

مارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخ

کیا جانیے کون سی ادا تھی

فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم

مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی

تیرے داغوں کی دولت اے گل رو

ہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

آسماں پر دماغ رکھتے ہیں

جوں مثال اس کی نمودار ہوئی توں ہی بیاںؔ

طپش دل نے کیا خواب سے بیدار مجھے

ٹک شکایت کی اب اجازت ہو

نہیں رکتی زبان پر آئی

کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ

کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث

نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ

عیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخ

قیامت آ چکی دیدار حق ہوا سب کو

ہم اب تلک بھی ترا انتظار رکھتے ہیں

دل بجھا جائے ہے اغیار کی شورش پہ مرا

سرد کرتی ہے تری گرمئ بازار مجھے

فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر

واں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر

حاجت شمع کیا ہے تربت پر

ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں

ہر حسن ادا ہے تیری ادا ہے تیری حقیقت کن سے جدا

عاشق ہے تری صورت پہ خدا اے نور محمد صلی اللہ

یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ

بلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ

غیر کے آگے دل کی بات بیاںؔ

آہ میری زبان پر آئی

شب مرا شور گریہ سن کے کہا

میں تو اس غل میں سو نہیں سکتا

کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ

کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث

ہوتے ہی صبح آہ گیا ماہ چار دہ

ثابت ہوا مجھے کہ نمک ہے عدوئے شیر

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے