کوثر خیرآبادی کے اشعار
نکلتی ہے صدائیں مرحبا ہر زخم سے قاتل
ہمیں لذت ملی کیا جانے کیا شوق شہادت میں
وصل میں جھگڑا بکھیڑا رات بھر ان سے رہا
ساہی کا کانٹا عدو نے زیر بستر رکھ دیا
خوشی سے پاؤں پھیلاتے ہیں کیا کیا کنج تربت میں
عجب لذت ہے ترے ہاتھ سے قاتل شہادت میں
خون عشاق سے قاتل نے نہ کھیلی ہولی
صف مقتل میں کبھی رنگ اچھلنے نہ دیا
بزم خلوت میں وہ سوتے ہیں دوپٹہ تانے
جلوۂ حسن خدا داد ہے اندر باہر
کس کو سناؤں کس سے کہوں ماجرائے غم
گونگے کا خواب ہے یہ مری داستاں نہیں
ادا و ناز قاتل ہوں کبھی انداز بسمل ہوں
کہیں میں خندۂ گل ہوں کہیں سوز عنادل ہوں
اہل عالم کہتے ہیں جس کو شہنشاہ سخن
میں بھی ہوں شاگرد کوثرؔ اس جگت استاد کا
کیوں میں فراق یار میں آہ و فغاں کروں
کوثرؔ دل حزیں جرس کارواں نہیں
مبارک زاہدوں کو پھر باغ خلد کوثر
نہ جنت میرے قابل ہے نہ میں جنت کے قابل ہوں
کاری لگی جگر پہ کٹاری نگاہ کی
بے خود ہوا زمیں پر گرا دل سے آہ کی
معشوق پابوس میں عاشق نے بچھائی آنکھیں
فرش گل پر کبھی اس شوخ کو چلنے نہ دیا
بزم خلوت میں اگر چھپ کے حیا آنے لگی
بڑھ کے آواز دی شوخی نے کہ باہر باہر
دل میں جگر میں آنکھوں میں رہیے خوشی سے آپ
پھر یہ نہ کہیے گا کوئی ملتا مکاں نہیں
ادا و ناز قاتل ہوں کبھی انداز بسمل ہوں
کہیں میں خندۂ گل ہوں کہیں سوز عنادل ہوں
جفا و جور کے صدقے تصدق بر زبانی پر
سناتے ہیں وہ لاکھوں بے نقط اس بے دہانی پر
جوش جنوں میں داغ جگر میرے بھرے
گلچیں ہمارے باغ کو خوف خزاں نہیں
کر کے دعویٰ خون ناحق کا بہت نادم ہوا
عرصۂ محشر میں قاتل کو پریشاں دیکھ کر
کس کو سناؤں کس سے کہوں ماجرائے غم
گونگے کا خواب ہے یہ مری داستاں نہیں
چاند سی پیشانی سندور کا ٹیکا نہیں
بام کعبہ پر چراغ اس نے جلا کر رکھ دیا
کوثرؔ وصل شاہ حسیناں کی آرزو
مجھ کو نہیں جہاں میں ہوس مال و جاہ کی
چاند سی پیشانی سندور کا ٹیکا نہیں
بام کعبہ پر چراغ اس نے جلا کر رکھ دیا
ہے منور رخ پر نور سے سب گھر باہر
ایک سا جلوہ خورشید ہے اندر باہر
مجسم صورت غم ہوں سراپا حسرت دل ہوں
نہ میں زندوں میں داخل ہوں نہ میں مردوں میں شامل ہوں
دل کو بٹھائے دیتی ہے تکلیف راہ کی
کیوں کر کوئی اٹھائے یہ گٹھری گناہ کی
وصل میں گیسوئے شب گوں نے چھپائی عارض
لیلۃ القدر میں کیوں چاند نکلنے نہ دیا
باغ عالم میں ہمیں پھولنے پھلنے نہ دیا
آسماں نے کوئی ارماں نکلنے نہ دیا
جوش جنوں میں داغ جگر میرے بھرے
گلچیں ہمارے باغ کو خوف خزاں نہیں
سرگرم قتل کب بت نا مہرباں نہیں
پیاسا مرے لہو کا فقط آسماں نہیں
جو عزم قتل ہے آنکھوں پہ پٹی باندھ لی قاتل
مبادا تجھ کو رحم آ جائے میری ناتوانی پر
خدا سے ڈر ذرا کوثرؔ کہ تو تو کھوئے بیٹھا ہے
سراپا دین و ایمان اک بت کافر کی چاہت میں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere