Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Kishan Singh Arif's Photo'

کشن سنگھ عارفؔ

امرتسر, بھارت

کشن سنگھ عارفؔ کے اشعار

باعتبار

ہے وہ قاتل قتل عاشق پر کھڑا

مار دے گا خوں بھری تلوار سے

ہم تو عاشق ہیں تیرے سورج پہ جوں سورج مکھی

ہو جدھر تو بس ادھر ہی منہ ہمارا پھر گیا

گر ملے اک بار مجھ کو وہ پری وش کج ادا

اس کو ظاہر کر دکھاؤں دل کا مطلب دل کی بات

عارفاؔ میں خواب غفلت میں رہا جب بے خبر

جاگ کر میں نے سنا دلبر پیارا پھر گیا

میں فدا ہوں آپ پر اور آپ ہو مجھ پر خفا

یہ میری تقصیر ہے یا کج ادائی آپ کی

دولت عشق خدا حاصل ہو گر

کچھ نہیں اچھا دگر اس کار سے

وصل کی شب ہو چکی رخصت قمر ہونے لگا

آفتاب روز محشر جلوہ گر ہونے لگا

کوچۂ جاناں میں جانا ہے محال

خوف ہے اس سنگ دل خونخوار سے

سوا قسمت کے دنیا میں نہیں کچھ مطلقاً ملتا

وگرنہ زور کر کے آزما لے جس کا جی چاہے

نہ چھپ مجھ سے تو اے بت سنگ دل

تجھے اس کتاب اور قلم کی قسم

اگر ایک پل ہو جدائی تیری

تو صحرا مجھے سارا گھر بار ہو

اے ستم گر بے وفا یہ بے وفائی کب تلک

عاشقوں کی تیرے کوچے میں دہائی کب تلک

آ کے میرے گھر سے جب وہ محفل آرا پھر گیا

اس کے پھرنے سے میرے سینے پہ آرا پھر گیا

میرا بخت خوابیدہ بیدار ہو

تیرا خواب میں مجھ کو دیدار ہو

جو مرنے سے موئے پہلے انہیں کیا خوف دوزخ کا

دل اپنا نار ہجرت سے جلا لے جس کا جی چاہے

بے گماں مل جائے گا جو ہے لکھا قسمت کے بیچ

صابر و شاکر کو کچھ جاگیر کی حاجت نہیں

ہے عاشق کو اپنے صنم کی قسم

مجھے تیرے خاک قدم کی قسم

دل میرا ہے مثل بلبل نعرہ زن

مثل بو گل رو گیا گلزار سے

اگر وہ پلاوے شراب وصال

تو کیا اس کا عاشق نہ مے خوار ہو

دکھا مجھ کو دیدار اے گلعذار

تجھے اپنے باغ ارم کی قسم

جب دوئی دل سے گئی اور دل ربا دیکھا عیاں

ڈال کر گل کو گلے میں خار کی حاجت نہیں

خوبرو خود آ ملے جب پھر کسی کا خوف کیا

یہ وہ جادو ہے جسے تسخیر کی حاجت نہیں

عارفاؔ ہے حق یہی بس غیر حق کچھ بھی نہ جان

پی مئے وحدت یہاں تاخیر کی حاجت نہیں

مل گیا ہے دل کسی دیدار سے

ہو گیا بیزار اب گھر بار سے

مثل گل باہر گیا گلشن سے جب وہ گلعذار

اشک خونی سے میرا تن تر بہ تر ہونے لگا

مثل گل باہر گیا گلشن سے جب وہ گلعذار

اشک خونی سے میرا تن تر بہ تر ہونے لگا

جانتا ہوں میں کہ مجھ سے ہو گیا ہے کچھ گناہ

دل ربا یا بے دلوں سے دل تمہارا پھر گیا

ہے کیا خوف عارفؔ کو محشر کے دن

وکالت پے جب پیر مختار ہو

عارفاؔ قاتل جب آیا تیغ وحدت ہاتھ لے

قتل کو گردن جھکا میں پیشتر ہونے لگا

میں ہوں بیچتا دھرم و ایمان و دیں

اگر کوئی آ کر خریدار ہو

صاحب توحید کو تلوار کی حاجت نہیں

زخمیٔ مژگاں کو کچھ سوفار کی حاجت نہیں

کہہ دیا فرعون نے بھی میں خدا کر کے خودی

ہو کے بے خود جب کہے انکار کی حاجت نہیں

جہاں گر ہو دشمن ہے کیا فکر و غم

اگر غم گساری پہ غم خوار ہو

جب نظر اس کی پڑی ہم آسماں سے گر پڑے

اس کے پھرتے ہی جہاں یہ ہم سے سارا پھر گیا

گر ملوں تو تند خو ہو گالیاں دیتے ہو تم

دور رہنے سے ستاتی ہے جدائی آپ کی

برابر ہیں گر پاس ہو گل بدن

چمن ہو کہ جنگل چہ گلزار ہو

نامہ بر خط دے کے اس کو لفظ کچھ مت بولیو

دم بخود رہیو تیری تقریر کی حاجت نہیں

کیا لگایا یار نے سینے میں ہی تیر نگاہ

قوس کی مانند میرا کج کمر ہونے لگا

اگر ایک پل ہو جدائی تیری

تو صحرا مجھے سارا گھر بار ہو

کر دیا برباد سارا عشق نے جب خانماں

شہر میں چرچا میرا پھر گھر بہ گھر ہونے لگا

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے