میر محمد بیدار کے اشعار
رات تھوڑی سی ہے بس جانے دے مل ہنس کر بول
ناخوشی تا بہ کجا صبح ہوئی جاتی ہے
آہ جس دن سے آنکھ تجھ سے لگی
دل پہ ہر روز اک نیا غم ہے
خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں
ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش
گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا
نہ گیا ہم سے آنکھ بھر دیکھا
کون ہے کس سے کروں درد دل اپنا اظہار
چاہتا ہوں کہ سنو تم تو کہاں سنتے ہو
آج کیا ہے کہو کیوں ایسے خفا بیٹھے ہو
اپنی کہتے ہو نہ میری ہی میاں سنتے ہو
گر کسی غیر کو فرماؤ گے تب جانو گے
وے ہمیں ہیں کہ بجا لاویں جو ارشاد کرو
بیدارؔ کروں کس کو میں اظہار محبت
بس دل ہے مرا محرم اسرار محبت
بد مزاجی ناخوشی آزردگی کس واسطے
گر برے ہم ہیں تو ہو جئے اور سے جا آشنا
گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجے
اس کو کہہ دیکھیے کچھ یا مجھے اٹھوا دیجے
آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا
دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا
آہ اے یار کیا کروں تجھ بن
نالۂ زار کیا کروں تجھ بن
جگا کر خواب آسائش سے بیدارؔ آہ ہستی میں
عدم آسود گاں کو لا کے ڈالا ہے تباہی میں
جگا کر خواب آسائش سے بیدارؔ آہ ہستی میں
عدم آسود گاں کو لا کے ڈالا ہے تباہی میں
عشق کا درد بے دوا ہے یہ
جانے تیری بلا کہ کیا ہے یہ
مدتوں سے آرزو یہ دل میں ہے
ایک دن تو گھر ہمارے آئیے
ایک دن مدتوں میں آئے ہو
آہ تس پر بھی منہ چھپائے ہو
حنا کی طرح اگر دسترس مجھے ہوتی
تو کس خوشی سے ترے پاؤں میں لگا کرتا
یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
پر غیر کو تو نہ پیار کیجو
تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو
یہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو
جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظ
ہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظ
اٹھ جاؤں گا ایک دن خفا ہو
یہاں تک نہ کرو اداس مجھ کو
سرو برگ خوشی اے گل بدن تجھ بن کہاں مجھ کو
گلستان دل آیا فوج غم کی پائمالی میں
انجمن ساز عیش تو ہے یہاں
اور پھر کس کی آرزو ہے یہاں
ایک دن تجھ کو دکھاؤں گا میں ان خوباں کو
دعویٔ یوسفی کرتے تو ہیں اظہار بہت
مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہے
شعلہ آب زندگانیٔ چراغ مردہ ہے
گل ہی تنہا نہ خجل ہے رخ رنگیں سے ترے
نرگس آنکھوں کے ترے سامنے شرماتی ہے
جز تیرے نہیں غیر کو رہ دل کے نگر میں
جب سے کہ ترے عشق کا یاں نظم و نسق ہے
یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
پر غیر کو تو نہ پیار کیجو
غیر حرف نیاز سو بھی کبھو
کہہ سکوں ہوں مجال ہے کچھ اور
بد مزاجی ناخوشی آزردگی کس واسطے
گر برے ہم ہیں تو ہو جئے اور سے جا آشنا
دیکھ اے چمن حسن تجھے باغ میں خنداں
شبنم نہیں یہ گل پہ خجالت سے عرق ہے
یہ توقع نہ تھی ہمیں ہرگز
کہ دکھاؤ گے یہ جفا دل کو
خواب بیدارؔ مسافر کے نہیں حق میں خوب
کچھ بھی ہے تجھ کو خبر ہم سفراں جاتے ہیں
عاشق جاں نثار کو خوف نہیں ہے مرگ کا
تیری طرف سے اے صنم جور و جفا جو ہو سو ہو
نیند آوے گی نہ تنہا بیدارؔ
تا نہ خواب اس سے بہم کیجئے گا
مگر آنسو کسو کے پونچھے ہیں
آستیں آج کیوں تری نم ہے
دیکھ تیرے منہ کو کچھ آئینہ ہی حیراں نہیں
تجھ رخ روشن کی ہے مہر و مہ تاباں میں دھوم
گر اجازت ہو تو پروانہ کی طرح
صدقہ ہونے کو تمہارے آئیے
یہاں سے بیدارؔ گیا وہ مہ تاباں شاید
نظر آتا ہے یہ گھر آج تو بے نور ہمیں
جلوہ دکھا کے گزرا وہ نور دیدگاں کا
تاریک کر گیا گھر حسرت کشیدگاں کا
دور ہو گر شامہ سے تیرے غفلت کا زکام
تو اسی کی بو کو پاوے ہر گل و سوسن کے بیچ
مثل نگاہ گھر سے نہ باہر رکھا قدم
پھر آئے ہر طرف یہ جہاں کے تہاں رہے
یا رب جو خار غم ہیں جلا دے انہیں کے تئیں
جو غنچۂ طرب ہیں کھلا دے انہہیوں کے تئیں
کیا مہ و مہر کیا گل و لالہ
جب میں دیکھا تو جلوہ گر تو ہے
دل ہے بیتاب چشم ہے بے خواب
جان بیدارؔ کیا کروں تجھ بن
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere