پرنم الہ آبادی کے اشعار
پریشاں کس لیے ہیں چاند سے رخسار پر گیسو
ہٹا لیجے کہ دھندلی چاندنی اچھی نہیں لگتی
ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملال
دل مطمئن بھی آپ سے ہے بے قرار بھی
آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں
جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں
رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی
ہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی
کام کچھ تیرے بھی ہوتے تیری مرضی کے خلاف
ہاں مگر میرے خدا تیرا خدا کوئی نہیں
وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے
اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے
آ کر وہ میری لاش پہ یہ کہہ کے رو دیے
تم سے ہوا نہ آج مرا انتظار بھی
دل ربائی کی ادا یوں نہ کسی نے پائی
میرے سرکار سے پہلے مرے سرکار کے بعد
مصر کا چاند بھی شیدا ہے ازل سے ان کا
حسن کا حسن بھی دیوانہ نظر آتا ہے
اجازت ہو تو ہم اس شمع محفل کو بجھا ڈالیں
تمہارے سامنے یہ روشنی اچھی نہیں لگتی
وہ مجھ سے ملنے کو آئے ہیں میری موت کے بعد
خوشی بھی میرے لیے غم ہے کیا کیا جائے
سب سے ہوئے وہ سینہ بہ سینہ ہم سے ملایا خالی ہاتھ
عید کے دن جو سچ پوچھو تو عید منائی لوگوں نے
افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھی
ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی
غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو
ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی
کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشن
پتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ہیں
دیر سے آنے پہ میرے تیری دل کش برہمی
وہ خفا ہونا ترا وہ روٹھنا اچھا لگا
ایک دن ایسا بھی ہوگا انتظار یار میں
نیند آ جائے گی دروازہ کھلا رہ جائے گا
پرنمؔ غم الفت میں تم آنسو نہ بہاؤ
اس آگ کو پانی سے بجھایا نہیں جاتا
وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے
اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے
تو چاہے نہ کر دل سے الفت تو چاہے نہ رکھ مجھ سے نسبت
میں تیری نظر میں غیر مگر تو اور نہیں میں اور نہیں
نہ تھی امید ہمدردی کی جن سے
وہی تقدیر سے ہمدرد نکلے
کوئی دنیا میں نہیں آیا ہمیشہ کے لیے
بس خدا کا نام ہی نام خدا رہ جائے گا
عشق بت کعبۂ دل میں ہے خدایا جب سے
تیرا گھر بھی مجھے بت خانہ نظر آتا ہے
نہ پوچھ حال شب غم نہ پوچھ اے پرنمؔ
بہائے جاتے ہیں آنسو بہائے جاتے ہیں
دیر سے آنے پہ میرے تیری دل کش برہمی
وہ خفا ہونا ترا وہ روٹھنا اچھا لگا
درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا
جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے
غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو
ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی
تم نہ جاؤ زینت گلشن تمہارے دم سے ہے
تم چلے جاؤ گے تو گلشن میں کیا رہ جائے گا
گلشن پہ اداسی کی فضا دیکھ رہا ہوں
وہ درد کے موسم کو بدلنے نہیں دیتے
قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا
لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا
غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو
ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی
جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں
موسم نو بہار ہوتا ہے
آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے
آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا
خزاں کا خوف تھا جن کو چمن میں
انہیں پھولوں کے چہرے زرد نکل
گلشن پہ اداسی کی فضا دیکھ رہا ہوں
وہ درد کے موسم کو بدلنے نہیں دیتے
اس درجہ پشیماں مرا قاتل ہے کہ اس سے
محشر میں مرے سامنے آیا نہیں جاتا
خزاں کا خوف تھا جن کو چمن میں
انہیں پھولوں کے چہرے زرد نکل
کیا برباد ارمانوں نے دل کو
مرے دشمن تو گھر کے فرد نکلے
درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا
جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے
غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو
ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی
حیرت ہے کہ مے خانے میں جاتا نہیں زاہد
جنت میں مسلمان سے جایا نہیں جاتا
درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا
جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے
بڑھ کے طوفاں میں سہارا موج طوفاں کیوں نہ دے
میری کشتی کا خدا ہے نا خدا کوئی نہیں
قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا
لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا
قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا
لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere