Font by Mehr Nastaliq Web
Purnam Allahabadi's Photo'

پرنم الہ آبادی

1940 - 2009 | لاہور, پاکستان

"بھر دو جھولی میری یا محمد" لکھنے والے شاعر

"بھر دو جھولی میری یا محمد" لکھنے والے شاعر

پرنم الہ آبادی کے اشعار

باعتبار

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں

جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں

گلشن پہ اداسی کی فضا دیکھ رہا ہوں

وہ درد کے موسم کو بدلنے نہیں دیتے

آپ معشوق کیا ہو گئے

عاشقوں کے خدا ہو گئے

وہ مجھ سے ملنے کو آئے ہیں میری موت کے بعد

خوشی بھی میرے لیے غم ہے کیا کیا جائے

کام کچھ تیرے بھی ہوتے تیری مرضی کے خلاف

ہاں مگر میرے خدا تیرا خدا کوئی نہیں

خزاں کا خوف تھا جن کو چمن میں

انہیں پھولوں کے چہرے زرد نکل

پریشاں کس لئے ہیں چاند سے رخسار پر گیسو

ہٹا لیجے کہ دھندلی چاندنی اچھی نہیں لگتی

رکھتے ہیں دشمنی بھی جتاتے ہیں پیار بھی

ہیں کیسے غم گسار مرے غم گسار بھی

پرنمؔ اس بے وفا کے لیے

میرے آنسو دعا ہو گیے

آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رخ نے

آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا

خزاں کا خوف تھا جن کو چمن میں

انہیں پھولوں کے چہرے زرد نکل

وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے

اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے

جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں

موسم نو بہار ہوتا ہے

اس درجہ پشیماں مرا قاتل ہے کہ اس سے

محشر میں مرے سامنے آیا نہیں جاتا

غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو

ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی

تو چاہے نہ کر دل سے الفت تو چاہے نہ رکھ مجھ سے نسبت

میں تیری نظر میں غیر مگر تو اور نہیں میں اور نہیں

مصر کا چاند بھی شیدا ہے ازل سے ان کا

حسن کا حسن بھی دیوانہ نظر آتا ہے

اجازت ہو تو ہم اس شمع محفل کو بجھا ڈالیں

تمہارے سامنے یہ روشنی اچھی نہیں لگتی

کیا برباد ارمانوں نے دل کو

مرے دشمن تو گھر کے فرد نکلے

پرنمؔ غم الفت میں تم آنسو نہ بہاؤ

اس آگ کو پانی سے بجھایا نہیں جاتا

دل ربائی کی ادا یوں نہ کسی نے پائی

میرے سرکار سے پہلے مرے سرکار کے بعد

عشق بت کعبۂ دل میں ہے خدایا جب سے

تیرا گھر بھی مجھے بت خانہ نظر آتا ہے

وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے

اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے

حیرت ہے کہ مے خانے میں جاتا نہیں زاہد

جنت میں مسلمان سے جایا نہیں جاتا

درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا

جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے

اور کچھ غم نہیں غم یہ ہے

آپ مل کر جدا ہو گئے

کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشن

پتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ہیں

سب سے ہوئے وہ سینہ بہ سینہ ہم سے ملایا خالی ہاتھ

عید کے دن جو سچ پوچھو تو عید منائی لوگوں نے

غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو

ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی

نہ تھی امید ہمدردی کی جن سے

وہی تقدیر سے ہمدرد نکلے

گلشن پہ اداسی کی فضا دیکھ رہا ہوں

وہ درد کے موسم کو بدلنے نہیں دیتے

جب وہ آتے نہیں شب وعدہ

موت کا انتظار ہوتا ہے

قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا

لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا

ملنے کی ہے خوشی تو بچھڑنے کا ہے ملال

دل مطمئن بھی آپ سے ہے بے قرار بھی

کوئی دنیا میں نہیں آیا ہمیشہ کے لیے

بس خدا کا نام ہی نام خدا رہ جائے گا

اس نے میت پہ آ کر کہا

تم تو سچ مچ خفا ہو گئے

درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا

جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے

دیر سے آنے پہ میرے تیری دل کش برہمی

وہ خفا ہونا ترا وہ روٹھنا اچھا لگا

غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو

ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی

بڑھ کے طوفاں میں سہارا موج طوفاں کیوں نہ دے

میری کشتی کا خدا ہے نا خدا کوئی نہیں

ایک دن ایسا بھی ہوگا انتظار یار میں

نیند آ جائے گی دروازہ کھلا رہ جائے گا

قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا

لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا

قاصد کی امید ہے یارو قاصد تو آ جائے گا

لیکن ہم اس وقت نہ ہوں گے جب ان کا خط آئے گا

نہ پوچھ حال شب غم نہ پوچھ اے پرنمؔ

بہائے جاتے ہیں آنسو بہائے جاتے ہیں

دیر سے آنے پہ میرے تیری دل کش برہمی

وہ خفا ہونا ترا وہ روٹھنا اچھا لگا

درد و غم اور اداسی کے سوا کون آتا

جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے آئے

یاس و حسرت کا ترے بعد آئینہ رہ جائے گا

جو بھی دیکھے گا مرا منہ دیکھتا رہ جائے گا

آ کر وہ میری لاش پہ یہ کہہ کے رو دیے

تم سے ہوا نہ آج مرا انتظار بھی

افسردگی بھی رخ پہ ہے ان کے نکھار بھی

ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی

غم جاناں سے دل مانوس جب سے ہو گیا مجھ کو

ہنسی اچھی نہیں لگتی خوشی اچھی نہیں لگتی

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے