ریان ابوالعلائی کے صوفیانہ مضامین
مقدمہ : ’’مولدِ غریب‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک ائمہ و محدثین اور علما و شیوخ نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق حضرت رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور میلادالنبی ﷺ کے موضوع پر قلم اٹھایا اور نظم و نثر میں ہزاروں کی تعداد میں گراں قدر کتب تصنیف کیں، ان میں سے بعض مختصر اور بعض ضخیم
مقدمہ : ’’التماس‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ کا دائرہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اسے سمیٹنا یا ایک جگہ تحریر کر دینا یہ ایک بڑا مشکل کام ہے، اس کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ اس کا ہر ایک موضع کئی جلد کا متلاشی ہے، وحدت الوجود یا وحدت الشہود پر ہی سیکڑوں صفحات خرچ ہوسکتے ہیں،
مقدمہ : ’’خدا کی قدرت‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
عقیدۂ توحید کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق اکابرین کی رائے یہ ہے کہ عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے پہلا بنیادی عقیدہ ہے، یہ صرف ایک نظریہ ہی نہیں بلکہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنانے کا واحد ذریعہ بھی ہے ، یہ انسان کی تمام مشکلات کا حل، ہر حالت میں اس
مقدمہ : ’’چہل حدیث‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
چہل احادیث کے جمع کرنے کا سب سے بڑا محرک حضرت رسول اللہ ﷺ کا قول ہے۔ ’’جس شخص نے امورِ دین کے متعلق چالیس احادیث یاد کیں اور انہیں آگے امت تک پہنچایا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ اسے فقیہ کی حیثیت سے اٹھائے گا اور روزِ قیامت میں اس کے حق میں شفاعت کروں گا
مقدمہ : ’’سیرِ دیلی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
دہلی ہندوستان کا دارالحکومت ہے جسے مقامی طور پر دلی بھی کہا جاتا ہے، ایک ایساشہر جو کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دارالحکومت رہا ہے، کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ ہوا اور پھر آباد ہوا، سلطنت کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی،تمدنی اور تجارتی مرکز کے طور پر
مقدمہ : ’’آثارِ کاکو‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
تاریخ نویسی و تذکرہ نگاری کا ذوق و شوق شروع سے قائم رہاہے۔ اس سلسلے میں اربابِ قلم نے جزیرۃ العرب کے حالات و مقامات کا ذکر شروع کیا اور چھوٹی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں مگر ان میں کچھ شائع ہوئی اور کچھ ضائع ہوئی بقیہ تلف ہوئی،یہ کام سب سے پہلے عربی زبان میں
مقدمہ : ’’فنا و بقا‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں ہندوستا ن کے اکثر علاقوں میں سلسلۂ نقشبندیہ کا خوب عروج رہا جو بعد میں پھوٹ کر دو شاخوں میں منقسم ہوگیا۔ (۱) سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ (۲) سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانی محبوب جل و علا حضرت سیدنا
مقدمہ : ’’سرمۂ بینائی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
’’سرمۂ بینائی‘‘حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری کی اردو زبان میں لکھا ہوا پچیس ؍تیس صفحات پر مشتمل ایک مشہور و معروف رسالہ ہے، اس میں صوفیانہ عقائد مثلاً وحدت الوجود، توحید، فنافی الذات، فنافی الصفات، حقیقت النفس اور توبہ جیسے مہتم بالشان عنوانات
مقدمہ : ’’آل و اصحاب‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کا احترام جزوِ ایمان ہے۔ عہدِ رسالت سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ اہلِ بیت سے محبت رکھتی ہے۔ حضرت عبدالرؤف مناوی (پیدائش 1545ء - وصال 1622ء) فرماتے ہیں کہ ’’کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا
مقدمہ : ’’مولد فاطمی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
حضرت فاطمہ زہرا اسلام کی مقدس ترین خاتون میں سے ایک ہیں جن کے تذکروں کا دائرہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اسے سمیٹنا ایک مشکل امر ہے۔ صحاحِ ستہ اور دوسری تمام کتبِ احادیث آپ کے تذکرے سے بھری پڑی ہیں،بیشتر علمائے اہلِ سنت نے آپ کے اوصاف و کمالات، انداز
مقدمہ : ’’تاریخِ خواجگان‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
محبوبِ جل و علا حضرت سیدنا امیر ابوالعلا قدس سرہٗ مریدوں کو اکثر سلسلۂ نقشبندیہ کا شجرہ عنایت فرماتے تھے، جو کوئی سلسلۂ چشتیہ میں بیعت کی درخواست کرتا تواس کو شجرۂ عالیہ اس ترتیب سے عنایت فرماتے کہ پہلے خواجگانِ چشت سے خواجہ معین الدین چشتی تک کےاسمائے
نصرت فتح علی خان مہد سے لحد تک
’’سہرا یہ حقیقت کا نصرتؔ کو سنانے دو‘‘ نصرت فتح علی خاں پاکستان کے بڑے قوال، موسیقار، موسیقی ڈائریکٹر اور بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے، نصرت کو اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قوالی کے گلوکار کے طور پر جانا جاتا ہے، انہوں
ذکر خیر حضرت شاہ فریدالدین احمد کاکوی
کاکو اپنی قدامت اور ہدایت و لیاقت کے اعتبار سے ہمیشہ ممتاز رہی ہے، یہاں مشہور ولیہ حضرت مخدومہ بی بی ہدیہ المعروف کمال کا آستانہ متبرکہ ملک بھر میں مشہور ہے، کثرت سے بندگان خدا اس دیار میں آکر من کی مراد پاکر خوشی کے ساتھ واپس جاتے ہیں، یہ جگہ حضرت
ذکر خیر حضرت مخدومہ بی بی کمال
صوبۂ بہار میں مسلمانوں کی آمد سے قبل کمال آباد المعروف کاکو میں ہندوؤں کی آبادی قائم تھی، جہاں کسی راجہ یا بڑے زمیندار کی حکمرانی تھی، اور آج بھی قدیم ٹیلوں اور کھدائی کے دوران ملنے والی پرانی اینٹیں اس قدیم بستی اور اس کی تاریخی حیثیت کی گواہی
ذکر خیر حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ
حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ معروف شاعر، ادیب، محقق، خطیب، عالم اور گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشیں تھے، آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے، اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہتے تھے، اسی وجہ سے انہیں ’’شاعرِ ہفت
ذکر خیر حضرت حکیم شاہ عزیز احمد ابوالعُلائی
اس عالم فانی میں کئی ہستیاں نمودار ہوتی ہیں اور پھر اپنے جلووں کے ساتھ رخصت ہو جاتی ہیں مگر اپنی کردار، انداز و اطوار، گفتار و بیان اور اخلاق و اخلاص یہیں چھوڑ جاتی ہیں، انسان چلا جاتا ہے مگر اپنی اچھائیوں سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے، اگر
ذکرِ خیر حضرت شاہ رضی الدین حسین منعمی
آپ حضرت شاہ مبارک حسین (متوفیٰ ۱۲۷۳ھ) کےفرزنداصغراورخانقاہ منعمیہ قمریہ،میتن گھاٹ،پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ہیں،آپ کی پیدائش۱۲۷۱ھ میںہوئی،آپ کی آمدپرحضرت شاہ محمدیحییٰؔ عظیم آبادی نےقطعۂ تاریخ کہااور’’نمونۂ خورشید‘‘ اور’’نورشمس وقمر د گر آمد‘‘سےسنِ
تبصرہ : ’’بہار میں رثائی ادب آغاز وارتقا‘‘
ابھی کچھ مہینے قبل سلطان آزاد صاحب کی ایک نئی کتاب ’’بہار میں رثائی ادب- آغاز و ارتقا‘‘ موصول ہوئی جو اپنے موضوع کے اعتبار اور معیار سے گراں قدر ہے، موصوف نے نہایت تلاش و تحقیق کے بعد یہ قیمتی سرمایہ تیار کیا ہے، ۱۵۲؍ صفحات کی کتاب کو آزاد نے چار
ذکر خیر حضرت مخدوم شاہ محمد منعم پاک
پٹنہ ہر عہد میں صوفیوں کا عظیم مرکز رہا ہے، یہاں بڑے بڑے صوفیو ں کی درگاہیں اور خانقاہیں آج بھی آباد ہیں، صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگ ان صوفیوں کی خانقاہوں میں عقیدتوں کا سلام پیش کرنے آتے ہیں اور محبتوں کا پھول چڑھاکر خوش خوش
ذکر خیر حضرت مخدوم حسین دھکڑپوش
بہار و بنگال کے اولین صوفیا کی بڑی تعداد سلسلۂ سہروردیہ سے وابستہ رہی ہے، روایت کے مطابق امام محمد تاج فقیہ منیر کے فاتح تھے اور ان کے پوتے مخدوم کمال الدین احمد یحییٰ منیری نیز ان کے خسرِ معظم حضرت شہاب الدین پیر جگجوت بھی اسی سلسلے سے منسلک تھے،
ذکر خیر حضرت شہاب الدین ’’پیر جگجوت‘‘
اکثر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام محمد تاج فقیہ کو بحکم حضرت رسول اللہﷺ چندافرادکے ساتھ مکہ مکرمہ سے ہندوستان آنا نصیب ہوا اور انہوں نے ۵۷۶ھ میں صوبۂ بہار کے خطۂ منیر کو فتح کیا، بعد ازاں اس علاقہ کو اپنے ورثہ نے اختیار الدین محمد بن بختیار خلجی
ذکر خیر حضرت مولانا ارشد علی شرفی بہاری
بہار کی سرزمین اپنی زرخیزی، علمی وراثت اور روحانی سرمایہ کے لیے معروف ضرور ہے مگر اپنی شہرت اور وسعت کے اعتبار سے ابھی تک دنیا کی توجہ سے محروم رہی ہے، اس کی ایک روشن مثال حضرت مخدومِ جہاں، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری ہیں، جنہیں شیخ الاسلام والمسلمین
ذکر خیر حضرت حکیم شاہ علیم الدین بلخی
برصغیر ہند و پاک کی جن شخصیتوں کو صحیح مانوں میں عہد ساز اور عبقری کہا جاسکتا ہے، ان میں ایک نمایاں اور محترم نام خانقاہ بلخیہ فرودسیہ، فتوحہ کے سجادہ نشیں اور صوبۂ بہار کی مشہور علمی شخصیت حضرت مولانا حکیم سیّد شاہ علیم الدین بلخی فردوسی کا ہے، آپ
ذکر خیر حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعُلائی افغانی
حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعُلائی کا تعلق افغانستان کےسرحدی قبائل میں قبیلہ اُتمان خیل سےہے، یہ خیبرپختونخواکےضلع باجوڑمیںآتاہے،اُتمان خیل قوم پٹھانوں کا ایک مشہور قبیلہ ہے جس کی مردانگی اور بہادری رطب اللسان ہیں،ا س قوم کا بنیادی تعلق خراسان کےعلاقہ
ذکر خیر حضرت حاجی شاہ عبداللہ ابوالعُلائی الہ آبادی
ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بعد جو سلسلہ سب سے زیادہ رائج ہوا وہ سلسلۂ ابوالعُلائیہ ہے، در اصل یہ نقشبندیہ سلسلے کی شاخ ہے، توحید اور عشق کی تعلیم یہاں لازمی ہے، گیارہویں صدی ہجری سے یہ سلسلہ اس قدر مشہور ہوا کہ برصغیر میں اس کی عظمت و رفعت قائم ہوگئی،
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ مراداللہ فردوسی منیری
منیر شریف صوبۂ بہار کی پہلی روشن گاہ ہے، بہار میں اسلام کی شمع یہیں سے پھوٹی، ۵۷۶ھ میں امام محمد تاج فقیہ کا یہاں آنا اور امن و محبت اور انسان دوستی کا ماحول قائم کرنا یہ سب بارگاہِ رسالت ﷺسے اشارہ تھا، آپ ہاشمی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، آپ کا
حضرت ابراہیم زندہ دل اور ان کا خانوادہ
کاکو ساتویں صدی ہجری سے صوفیائے کرام کا مولد و مسکن رہا ہے، یہاں ابتدا ہی سے جلیل القدر اؤلیا و اصفیا کی خانقاہیں اور درگاہیں قائم رہی ہیں، جو بندگانِ خدا میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی چلی آ رہی ہیں، اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم زندہ دل بھی کاکو تشریف
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ تقی الدین فردوسی
پندرہویں صدی ہجری میں صوبۂ بہار کو یہ شرف حاصل ہوا کہ یہاں کی مٹی سے کثیر تعداد میں صاحبان علم و دانش نمودار ہوئے جن کے علم و تفقہ اور مسائل و معاملات کا ایک زمانہ قائل ہے، دینی معاملات ہو یا دینی معلومات ہر فن کے افراد یہاں سر فہرست نظر آتے ہیں۔ بہار
تبصرہ : ’’روحِ سماع‘‘
خانقاہ امجدیہ، سیوان کے ڈاکٹر شاہ التفات امجدی کی مرتب کردہ کتابِ مستطاب ’’روحِ سماع‘‘ کو شمارِ بہترین کتب میں کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ یہ نہایت خوب صورت انداز میں سماع میں پڑھے جانے والے اشعار کا ایک لاجواب انتخاب پیش کرتی ہے۔ سماع ایک ایسی روحانی
ذکر خیر حضرت شاہ احمد حسین چشتی شیخ پوروی
شیخ پورہ خرد چشتیوں کی قدیم آماجگاہ ہے مگر یہاں قادری ،سہروردی اور ابوالعُلائی بزرگ بھی آرام فرماہیں،تذکرے اور تاریخ کے حوالے سے یہ جگہ حضرت تاج محمود حقانی (تاریخِ وصال۱۴ ؍جمادی الاخر)سے عبارت ہے ۔ نویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ سیّد عبداللہ چشتی
تبصرہ : ’’مخ المعانی‘‘
کتابیں محض کاغذ، قلم اور سیاہی کا امتزاج نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک تہذیب، علم، حکمت، عرفان اور روحانیت کا آئینہ ہوتی ہیں، یہ انسانی شعور کی ارتقائی منازل کی گواہ ہوتی ہیں اور ذہن و دل کو جلا بخشنے کا ایک دیرپا ذریعہ بن جاتی ہیں، ایک مہذب
ذکر خیر حضرت شاہ محمد غزالی ابوالعُلائی کاکوی
کاکو ہمیشہ اپنی علمی و روحانی وجہوں سے ممتاز رہا ہے، یہاں کی ادبی شخصیات سے لے کر روحانی ہستیوں تک کی ایک طویل فہرست ملتی ہے جنہوں نے ایک عہد کو بڑا متاثر کیا، ان کی کرنیں آج بھی زمانے کو روشنی دینے کا کام کر رہی ہیں، انہیں میں ایک عظیم روحانی ہستی
فریدالدین یکتاؔ پر ایک سرسری نظر
ابھی حال کے پچاس برسوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی نگارشات اور ان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو یکجا کرنے کی ایک وسیع تر تحریک جاری ہے، ہر شخص اپنے اپنے اسلاف و اکابر کی قلمی کاوشوں کو منصۂ شہود پر لانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، تاکہ نئی
تبصرہ : ’’چلہ کشی‘‘
خدا تک پہنچنے کے لیے صوفیائے کرام نے ہمیشہ تگ و دو کی ہے، انہوں نے اپنے نفس کو تیاگ کر خدا کو پا لینے کے لیے بڑی بڑی ریاضتیں اور کوششیں کی ہیں، ان عبادت و ریاضات میں چلہ کشی بھی ایک اہم راستہ ہے، جس کے ذریعے بندہ خدا کو پا لینے کے اہتمام و انتظام میں
ذکر خیر حضرت شاہ غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی
کاکو کی قدامت پر سبھی متفق ہیں، آج سے تقریباً سات سو برس قبل یہاں مسلم آبادی کی بنیاد پڑی، اس طویل عرصے میں نہ جانے کتنے مشائخ اور اہلِ دانش گزرے، جن کے مزارات آج بھی کاکو کے مختلف مقامات پر خستہ حالی کے ساتھ موجود ہیں، کاکو میں چند ایسے خانوادے
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ ہلال احمد قادری
خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف محتاج تعارف نہیں ہے، یہاں کی عظمت و رفعت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے، پھلواری شریف جسے بزرگوں کی اصطلاح میں جنت نشاں کہتے ہیں کئی صدیوںسے آباد وشاد ہے، ابتدائی دور میں یہ جگہ فوجیوں کا مسکن ہواکرتا تھا اس میں روحانی و عرفانی
ذکر خیر حضرت شاہ مبارک حسین مبارکؔ
عظیم آباد میں رؤسا، شعرا، حکما، علما، صلحا اور صوفیا کی ایک طویل جماعت رہی ہے، جنہوں نے اس سرزمین کو اپنی علم و عرفان سے روشن کر دکھایا ہے، ان میں زیادہ تر وہ ہستیاں شامل ہیں جنہوں نے بہار کے دوسرے خطے سے ہجرت کرکے عظیم آباد میں اپنے کمالات کے جوہر
تبصرہ : ’’گلِ سخن‘‘
فون کی گھنٹی بجی، سلام و دعا کے بعد معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سیّد علی اختر صفدرؔ ہاشمی مخاطب ہیں، جو معروف شاعر و مصنف ڈاکٹر سیّد شاہ اظہارالحسن اظہرؔ ہاشمی کے صاحبزادۂ گرامی ہیں، گفتگو نہایت خوشگوار اور ادبی رنگ میں رنگی ہوئی رہی، اسی دوران انہوں نے خوش خبری
بہار میں سیرتِ نبوی کی اردو روایت
قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک ائمہ، محدثین، علما اور مشائخ نے اپنے اپنے ذوق و فہم کے مطابق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور میلادالنبی کے موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے، نظم و نثر ہر دو میدانوں میں ایسے گراں قدر علمی و روحانی سرمائے وجود میں آئے جن
ذکر خیر حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری
صوبۂ بہار کا خطہ مگدھ، پاٹلی پترا، راجگیر اور منیر شریف نہ صرف سیاسی برتری اور علمی شہرت کا مرکز رہا ہے بلکہ روحانی تقدس اور عظمت کے اعتبار سے بھی ہر دور میں ممتاز و بے مثال مقام رکھتا ہے، ہندو مت ہو یا بدھ دھرم، جین مت ہو یا کوئی دوسرا مکتبۂ فکر،
ذکر خیر حضرت بہلول قادری نظام آبادی
برصغیر کے روحانی نقشے پر نظام آباد کی درگاہِ حضرت سیّد امان اللہ حسینی ایک درخشندہ چراغ کی مانند رہی ہے، اسی عظیم روحانی سلسلے کے چشم و چراغ، متواضع اور باکمال بزرگ عارف الحق حضرت سیّد بہلول طبقاتی قادری نظام آبادی تھے، جن کی زندگی تقویٰ، علم، فقر،
ذکر خیر حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی
صوبۂ بہار میں ناجانے کتنی شخصیات جنم لیتی ہیں اور معدوم ہوجاتی ہیں، ان ہی میں بعض صاحبِ جمال اور مکاشفۂ لایزال ہستیاں بھی نمودار ہوتی ہیں جو اپنے اسلاف کی یادیں تازہ کرا دیتی ہیں، یہاں کی سر زمین ہمیشہ سے نہ صرف زرخیز بلکہ مردم خیز رہی ہے اور تقریباً
حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ
بہار میں جن خانوادوں سے تصوف کو فروغ ملا ان میں حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ نمایاں کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے یہاں روحانیت اور اس کی عظمت کا ایسا سلسلہ قائم کیا جس کی چمک تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے، کسے پتا تھا کہ بہار شریف میں ملّا
ذکر خیرحضرت شاہ التفات احمد صابری
ہندوستان میں بہت سی خانقاہیں ہیں جو قدیم زمانہ سے تبلیغ دین،فروغ علم، اصلاحِ تصوف،تحقیق و تصنیف اور تربیت و تذکیہ کے ذریعے عظیم فریضہ انجام دے رہی ہیں، ان میں بعض خانقاہوں کو امتیازی شان حاصل ہے، ہندوستان کی قدیم ترین خانقاہوں میں خانقاہ حضرت شیخ العالم
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ محمد اسمعٰیل روحؔ کاکوی
کاکو کی مشہور درگاہ حضرت مخدومہ بی بی کمال کے متولی حکیم سعید احمد ابوالعُلائی کے لائق صاحبزادے حضرت مولاناشاہ محمد اسمعٰیل ابوالعُلائی بڑے صوفی مزاج اور نہایت بردو بار شخصیت کے حامل تھے ،۱ا؍گست ۱۳۳۸ھ بروز یک شنبہ شاہ ٹولی، داناپور اپنی نانیہال میں
جوہرؔ نوری ایک فطری شاعر
شعر و سخن کی دنیا میں جوہرؔ نوری کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، وہ تقریباً پانچ دہائیوں سے زلفِ اردو کو سنوارنے اور سجانے میں لگے ہوئے ہیں، جوہرؔ نوری کو شاعرانہ ذوق ورثہ میں ملا ہے، آپ کے جد اعلیٰ حضرت سیّد لطف احمد قادری ایک اچھے شاعر گزرے ہیں جن کا
ذکر خیر حضرت جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی بہاری
کسی بھی شئے کو ممتاز اور خوشگوار بنانے کے لیے غیر معمول صفت کا ہونا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ شاہانِ زمانہ ہو یا صوفیائے کرام جن کی حسین تر زندگی یعنی اخلاق و کردار کی بنا پر وہ شہر جہاں یہ بستے ہیں ممتاز ہوتی ہے،اس طرح امتداد زمانہ کے بعد رفتہ رفتہ ان
لکھنؤ کا سفرنامہ
لکھنؤ کے متعلق برج نرائن چکبستؔ نے بہت پہلے ایک ایسا شعر کہا تھا جو آج بھی اس شہر کے ماضی کی دھندلی مگر پُر رونق تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ زبانِ حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے مٹایا گردشِ افلاک نے جاہ و حشم میرا یہ شعر صرف ایک جملۂ